Showing posts with label اردو واقعات اور کہانیاں. Show all posts
Showing posts with label اردو واقعات اور کہانیاں. Show all posts

Wednesday, September 3, 2025

 


ترجمہ : ابو مصعب اﻻثري

ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔
رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔
یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔
پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔
دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔
تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔
صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔
میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔
اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔
لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"
🌹
صدام حسین کی مشہور نظم
ایک بار عدالت میں جج رؤوف عبدالرحمن سے بحث کے دوران صدام نے مسکراتے ہوئے کہا:
"میرے پاس دو شعر ہیں، تمہیں تحفے میں دیتا ہوں۔"
اس پر جج نے فوراً وہ بٹن دبا دیا جس سے مائیک بند ہوگیا، اس لیے نظم عوام تک نہ پہنچ سکی۔ صرف عدالت میں موجود افراد نے یہ سنی، بعد میں وکلا نے یہ اشعار افشا کیے۔
💔
نظم:
زمانے کی غداری پر افسوس نہ کرنا،
کتنی ہی بار کتوں نے شیروں کی لاشوں پر رقص کیا۔
یہ مت سمجھنا کہ ان کا رقص انہیں سردار بنا دے گا،
شیر شیر ہی رہتا ہے اور کتے کتے۔
اے رہنماؤں کی چوٹی! میں شاعر ہوں،
اور شاعری آزاد ہے، اس پر کوئی الزام نہیں۔
میں صدام ہوں… داڑھی بڑھاتا ہوں،
چاند کے چہرے پر داڑھی کوئی عیب نہیں۔
یہ علوج کیوں میری داڑھی پکڑتے ہیں؟
کیا انہیں میرے دانت اور پنجے خوف زدہ کرتے ہیں؟
میں ہیبت ناک ہوں چاہے قید ہی کیوں نہ ہو،
شیر پنجرے کے پیچھے بھی ڈر پیدا کرتا ہے۔
کیا تم بھول گئے جب میں معزز تھا،
میرے قدموں تلے دریائیں بہتی تھیں۔
میرا جلوس بیس جہازوں کے ساتھ اڑتا تھا،
پرندے ان کے گرد جھنڈ بنا لیتے تھے۔
بڑے بڑے رہنما میرے گرد جھکتے تھے،
اور تم میں سے کچھ صرف دربان تھے۔
عمان اور رباط اس کی گواہی دیتے ہیں،
چیلنج کی وہ چوٹی جس کا کوئی جواب نہ تھا۔
میں وہی عراقی ہوں جو آج قید میں ہے،
قائد کے بعد ذلت اور عذاب سہہ رہا ہے۔
میں نے الوداعی لباس تمہارے لیے تیار کیا،
اور تمہارے لیے اپنے ہی ہاتھ سے کفن سیا۔
میں نے زہر کا پیالہ پی لیا،
تاکہ تمہارے ہونٹوں تک جام نہ پہنچے۔
تم سب بھی قیدی ہو گے، جلد یا بدیر،
میری طرح، اور اسباب بھی وہی ہوں گے۔
تمہاری فوجوں کے ساتھ آنے والے فاتحین،
تمہارے محلات میں کتے بن کر گھسیں گے۔
اللہ کی طرف رجوع کرو، توبہ کرو،
وہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا۔
معاف کرنا اگر آج عربیت ایک بکری بن گئی،
اور اس کے محافظ بھیڑیے بن گئے۔
💢
صدام حسین کے بارے میں چند حقائق
1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"
6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"
❣️
آخری لمحے
پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"
افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"
صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"
پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔
اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:
"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"
یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔
🌹
اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے۔


اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہے تو حضور ﷺ پر درود بھیجیں

Saturday, August 3, 2024

وفادار بیویاں

بیویاں اپنا فرض آخری سانس تک پورا کرتی ہیں

سلمان آج پھر عائشہ کو اس کی اوقات دکھا کر دفتر کے لئے نکل گیا ۔ اور دکھائے بھی کیوں نہ وہ کوئی زیادہ پڑھی لکھی عورت نہیں تھی وہ عام گھر میں رہنے والی عورت تھی اس کا کام صرف کپڑے دھونا ،کھانا بنانا، بستر لگانا ،صفائی کرنا، بچوں کو اچھی تعلیم دینا ، گھر کے بوڑھے بزرگوں کا دھیان رکھنا اور گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا ہی اس کا کام تھا ۔

ان سب کاموں کی کیا اہمیت یہ سب تو کوئی نوکرانی بھی کر سکتی ہے یہ سب سوچ کر عائشہ نے اپنے گالوں سے آنسووں کی بوندوں کو صاف کیا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

اس دوران سلمان کا فون آیا کہ وہ گھر دیر سے آئے گا اور کھانا بھی باہر ہی کھائے گا ۔

عائشہ سمجھ گئی کہ اب وہ باہر سے نشہ بھی کرکے آئے گا۔۔

پہلے تو روز عائشہ سلمان سے اس بات پر جھگڑا کرتی تھی کہ وہ نشہ کرکے گھر نہ آیا کرے وہ یہ کہہ کر اسے چپ کروا دیا کرتا تھا کہ وہ کماتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے ۔

اب تو جیسے وہ تھک چکی تھی وہ سلمان کے منہ ہی نہیں لگنا چاہتی تھی کیونکہ سلمان اسے کافی بار یہ کہہ چکا تھا کہ اس کے گھر کو اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عائشہ کو اس گھر کی ضرورت ہے

وہ جب چاہے اس گھر کو چھوڑ کر جا سکتی ہے۔ عائشہ یہ سوچ کر چپ ہو جاتی تھی کہ شاید سلمان صحیح کہہ رہا ہے اور وہ جائے گی بھی کہاں ۔

مائیکا تو بچپن سے ہی پرایا ہوتا ہے ۔اگر گھر کی بیٹی چار دن بھی زیادہ رک لے تو آس پاس کے لوگوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اور بات ماں باپ کی عزت پر بن آتی ہے یہ سب سوچ کر عائشہ بےعزتی کا گھونٹ پی جاتی ہے ۔

اگلے دن عائشہ کی طبیعت کچھ ٹھیک سی نہیں لگ رہی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ اسے بخار تھا اس نے گھر پر ہی دوا لے لی۔ جیسے تیسے ناشتہ اور بچوں کا ٹیفن بنا لیا اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی ۔

سلمان یہ کہہ کر چلا گیا کہ ڈاکٹر کو دکھا لینا ۔

شام تک عائشہ کا بخار بڑھ گیا ۔اس کی طبیعت میں ذرا بھی سدھار نہیں تھا ۔

اس نے سلمان کو فون کیا تو اس نے کہا کہ وہ آتے وقت دوا لیتا آئے گا ۔ سلمان نے عائشہ کے پاس دوا رکھ دی اور کہا کہ اسے کھالو۔ کیونکہ اس نے دوا لانے کا اتنا بڑا کام جو کیا تھا ۔

ادھر ساس نے رات کو کھانا بنا کر اس بات پر مہر لگا دی کہ اس گھر کو عائشہ کی ضرورت نہیں ہے۔ رات کو عائشہ نے کھانا نہیں کھایا وہ بے چین ہو کر تڑپ رہی تھی اور ادھر سلمان چین کی نیند سو رہا تھا اور سوئے بھی کیوں نہ اسے اگلے دن کام پر جانا تھا وہ کماتا ہے اس گھر کو اس کی بہت ضرورت ہے ۔

اگلے دن سلمان دوا کا کہہ کر اپنا عظیم فرض پورا کرکے چلا گیا ۔ادھر ساس نے بھی بیماری میں ہاتھ پیر چلانے کی نصیحت کی ۔

شام میں عائشہ کی طبیعت اور بگڑ گئی ۔ ساس نے سلمان کو فون کیا اور اسے بتایا ۔ سلمان نے کہا کہ وہ ابھی آتا ہے مگر اس کو آنے میں ایک گھنٹہ اور ہوگیا ۔

پھر سلمان کو دوبارہ فون کیا تب تک عائشہ موت کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ سلمان گھر آکر اسے ہسپتال لے گیا تب تک عائشہ مر چکی تھی۔

اب عائشہ کو کسی کی ضرورت نہیں تھی ۔ پر اب عائشہ کی سب کو ضرورت تھی۔ آج عائشہ کا دسواں ہوچکا تھا۔ اور سلمان کو دفتر جلدی نہیں جانا تھا، جاتا بھی کیسے اسے گھر کے کام جو کرنے تھے ۔ وہ کام جو عائشہ کے ہوتے ہوئے اسے پتا بھی نہیں چلتا تھا ۔

آج اسے پتا چلا کہ اس گھر کو عائشہ کی کتنی ضرورت ہے ۔
آج سلمان کو اپنے تو لیے،۔ رومال، اپنی دفتر کی فائلیں یہاں تک کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جن کا اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ کہاں ہیں اسے نہیں مل رہی تھیں ۔

اسے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اسے عائشہ کی کتنی ضرورت ہے ۔

آج عائشہ کے جانے کے بعد گھر گھر نہیں چڑیا گھر نظر آتا تھا۔ ساس کی دوائیاں اور بچوں کو کھانا وقت پر نہیں ملتا تھا ۔
سلمان کو رات کو بستر لگا ہوا نہیں ملتا تھا اور نہ ہی کوئی اس کا گھر پہ انتظار کرنے والا تھا ۔

اب اسے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں تھی وہ کہاں ہے اور کب تک آئے گا کیونکہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا ۔
اور آج سلمان کو عائشہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔اور عائشہ کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میری بھی ضرورت ہے ان سب کو ،موت کو گلے لگانا پڑا تھا ۔

اس کو اپنی اہمیت بتانے کے لئے اس دنیا سے جانا پڑا تھا ۔اور سب نے مان لیا کہ عائشہ کو اس گھر کی نہیں بلکہ اس گھر کو عائشہ کی ضرورت ہے ۔ سچ کہا ہے کسی نےانسان کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنی گھر کی عورتوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔

Learn Ai photography part 10

:PROMPT :  Make a real photo same as upload face A breathtaking cinematic wide shot of the man (reference face) standing on a rocky cliff ed...