Sunday, February 2, 2025

AI VS AI

DeepSeek کا پروجیکٹ خاص طور پر AI اور LLM (Large Language Models) کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، لیکن ChatGPT یا OpenAI کو اس سے کوئی براہِ راست نقصان نہیں ہوا۔

چند اہم پہلو:


1. مقابلہ بڑھ گیا – DeepSeek، خاص طور پر چینی مارکیٹ میں، ایک نیا مقابلہ لے کر آیا ہے، جو OpenAI اور دیگر مغربی کمپنیوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

2. ٹیکنالوجی میں بہتری – زیادہ مقابلہ کا مطلب ہے کہ OpenAI کو اپنی سروسز مزید بہتر کرنی ہوں گی تاکہ وہ مارکیٹ میں سب سے آگے رہے۔

3. مارکیٹ شیئر پر اثر – DeepSeek خاص طور پر چینی اور ایشیائی مارکیٹ میں مقبول ہو سکتا ہے، لیکن OpenAI اب بھی ایک بڑی عالمی موجودگی رکھتا ہے۔

لہٰذا، فی الحال ChatGPT کو DeepSeek کی وجہ سے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، لیکن مستقبل میں اگر DeepSeek مزید مضبوط ہوا، تو AI کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

سنا ھے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی

سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی


سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی” برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا. “اللہ بخشے اسے، بہت اچھی عورت تھی” بنا ناراض ہوئے ،
بغیر غصہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا. ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا “لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی. بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے. “کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتاً میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی”. “یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ “نوجوان جوشیلے انداز میں بولا… “میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو ‘اس’ سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی” پرسکون جواب… جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو جہنم میں ہونا چاہیئے…لا حول ولا قوہ.. کہاں آپ جیسا شریف النفس آدمی کہاں وہ عورت؟اچھا کیا چھوڑ دیا” نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا. بوڑھے کی متجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا. تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا،کہانی خود بنانی تھی, جو رہ گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے- “میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی” بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں ایک روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی, سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی. مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکررہتی ہے، تربیت کی نہیں، تربیت بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے. وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا “میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں،اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا،یوں ہے بڑے دل والی،اپنے سائیں کو خوش رکھے گی”, وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا. سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار.” “باہر دوستوں کے ساتھ میری صحبت کوئی اچھی نہیں تھی، ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا ،رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی کیا پیتی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی. ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی “آپ تو کھانا باہر کھالیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے،
ہوسکے توایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سےخریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی”- کیا؟ اس پھونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے- مجھے طیش آیا. “ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے, اپنی اوقات دیکھی ہے؟ “غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے. میں یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی! وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی, پشیمانی تھی یا کیا وہ دودن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی. پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا، یوں اسکی روٹی کا انتظام ہوگیا اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی بےپرواہ ہوگیا.
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا “دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں”, میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے مار دوں، لیکن میں بس ایک موقع کی طاق میں تھا. ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا.اب آواز زیادہ واضح تھی.وہ کہ رہی تھی: “سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی, میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، جب تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بےعزتی اور اذیت بھی ملنے لگی،
مجھے اب روٹی تو ہی دے…تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا” وہ میری شکایت کررہی تھی؟ لیکن کس سے؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟؟؟ میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر بیٹھی خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا. میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی, وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی, وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی. وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی, آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی. کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی خدا شناس تھی,
میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا. دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اسکے گھر چھوڑ آیا، سسر نے طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا. ” یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے.مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاو آگیا تو میرا حشر نہ کردے” – حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا. اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا “میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس ‘سائیں’ کو خوش رکھنا جانتی ہے” ,
اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا. جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا.” تو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا”, اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا. میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں کا رب تھا. وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا. میں واقعی ڈر گیا تھا. میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو. ٹھیک کہتے ہیں لوگ!!کہاں میں کہاں وہ؟؟ “بوڑھی آنکھوں میں نمی اتری تھی. “میں کور چشم اسے پہچان نہ سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو۔

اردو کی دلچسپ کہانیاں : وفادار بیویاں

اردو کی دلچسپ کہانیاں : وفادار بیویاں: بیویاں اپنا فرض آخری سانس تک پورا کرتی ہیں سلمان آج پھر عائشہ کو اس کی اوقات دکھا کر دفتر کے لئے نکل گیا ۔ اور دکھائے بھی کیوں نہ وہ کوئی زی...

why crypto market crashed Alts coin hit All time 🔅 lower

Date: February 2, 2025 | 04:22 AM GMT

The cryptocurrency market has seen a sharp downturn in the last 24 hours, with Bitcoin (BTC) dropping below the $100K mark and Ethereum (ETH) losing 5% of its value. This sudden sell-off has resulted in $532 million in liquidations, according to data from Coinglass.

As a result, major altcoins have also suffered, with XRP (XRP), Stellar (XLM), and Hedera (HBAR) all declining by over 6%.

 Source: Coinmarketcap

What’s Behind the Downturn?

A key reason behind this decline can be seen in Bitcoin dominance, which is showing a crucial technical pattern. The BTC dominance 4-hour chart has formed a classic rising wedge pattern since January 13. This pattern has played out with higher highs and lower lows, and on January 30, BTC dominance finally broke below the wedge at 59.40%.

 BTC Dominance 4H Chart/Coinsprobe (Source: Tradingview)

After the breakout, BTC dominance initially fell to 58.62% but then rebounded for a retest, which took it back to 59.71% today before settling at 59.64%. This retest of the previous support now acting as resistance seems to have triggered the altcoin correction.

Can Altcoins Recover?

If BTC dominance confirms this rejection and resumes its downtrend, it could signal a quick recovery for altcoins. A confirmed pullback from here would validate the breakdown of the rising wedge, potentially leading to a strong bounceback for XRP, XLM, HBAR, and other altcoins in the coming days.

However, traders should closely monitor BTC dominance. A further decline would signal a shift back towards altcoin strength, but if BTC dominance fails to pull back and instead breaks above this resistance, it could invalidate the bearish wedge pattern. This might indicate market manipulation, leading to continued pressure on altcoins.

Disclaimer: This article is for informational purposes only and does not constitute financial advice. Always conduct your own research before making investment decisions.

Saturday, February 1, 2025

top 20 earnings apps

 

As of early 2025, several apps have gained prominence for enabling users to earn extra income through various activities. Here are 20 notable earning apps:

  1. Uber: Drive passengers or deliver food and groceries with Uber Eats, offering flexible earning opportunities.

  2. DoorDash: Deliver restaurant takeout or groceries, with weekly payments deposited directly into your bank account.

  3. Fiverr: Offer freelance services such as graphic design, writing, or video editing to a global client base.

  4. Rover: Provide pet-sitting or dog-walking services, setting your own schedule and rates.

  5. Turo: Rent out your vehicle to others when it's not in use, earning additional income.

  6. Survey Junkie: Participate in surveys to share your opinions and earn money, with a low $5 cash-out minimum.

  7. Swagbucks: Earn money by taking surveys, watching videos, playing games, and shopping online.

  8. Mistplay: Play featured games and complete goals to earn points redeemable for gift cards.

  9. Fetch Rewards: Upload your receipts to earn points that can be redeemed for gift cards.

  10. Rakuten: Get cash back on online purchases from participating retailers.

  11. Ibotta: Earn cash back on in-store and online purchases by uploading receipts or linking loyalty accounts.

  12. Upwork: A freelance marketplace covering a wide variety of industries and specialisms.

  13. Etsy: Sell handmade or vintage items, as well as craft supplies, to a global audience.

  14. Cash’Em All: Play games and complete surveys to earn coins, which can be cashed out via PayPal or gift cards.

  15. Cash Giraffe: Similar to Mistplay, it offers various games to earn money.

  16. Rewarded Play: Play games and complete surveys to earn gift cards.

  17. Freecash: Earn money by completing tasks, taking surveys, and playing games, with options to cash out via PayPal or gift cards.

  18. Depop: A marketplace app that allows you to buy and sell clothing and other items.

  19. Sweatcoin: Earn digital currency by walking, which can be redeemed for goods, services, or cash.

  20. Shopkick: Earn points by walking into stores, scanning products, and making purchases, which can be redeemed for gift cards.

These apps offer various ways to supplement your income, from gig work and freelancing to cashback and rewards programs. Choose the ones that align best with your skills and lifestyle to maximize your earnings.

For a visual overview of some top earning apps in 2025, you might find this video helpful:

Sunday, August 18, 2024

نوجوان خاتون ٹیچر

نوجوان خاتون ٹیچر نے اپنی شادی کے بعد ہنی مون پر جانے کیلئے چھٹیوں کیلئے ایسی درخواست لکھ دی کہ افسر مسترد ہی نہ کر پائے ، پڑھ کر آپ بھی ہنس پڑیں گے،


    دلچسپ و عجیب

لاہور (نیوز ڈیسک ) شادی کے بعد دلہا اور دولہن اکثر اوقات سیر سپاٹے کیلئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے وقت گزارتے ہیں جسے ہم ’ہنی مون ‘ کا نام دیتے ہیں تاہم ایسی ہی صورتحال سے دوچار ایک نوجوان خاتون نے بھی اپنے محکمے میں چھٹیوں کیلئے درخواست دی جو کہ سوشل میڈیا پرآگئی اور ہر طرف دھوم مچ گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق

امینہ سواب گل نامی خاتون ٹیچر جو کہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں پڑھاتی ہیں ، کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور اس حوالے سے انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہنی مون پر جانے کیلئے چھٹیاں حاصل کرنے کیلئے درخواست لکھی جو کہ قبول کر لی گئی ہے لیکن اس کے متن نے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے ۔ خاتون ٹیچرنے اپنی درخواست میں لکھا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں میری حال ہی میں شادی ہوئی ہے ، شادہ شدہ ہونے کے ناطے آپ اس کو سمجھتی ہیں کہ نئے نویلے جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہنی مون کو یاد گار بنائیں جس کی حسین یادیں زندگی کا حصہ بن جائیں اور ایسی ہی کچھ ہماری بھی خواہش ہے ۔میں نے اپنے شوہر سے وعدہ کر لیا ہے کہ ہم دو ہفتوں کیلئے ہنی مون پر جائیں گے جو کہ 14 فروری سے شروع ہو کر28 فروری 2019 تک جاری رہے گا جس دوران ہم اپنا زیادہ وقت نتھیا گلی ،مری ،سوات ویلی اور مالم جبہ میں گزاریں گے ۔ خاتون ٹیچر کا کہناتھا کہ ہم نے اس حوالے سے منصوبہ بندی بھی کر لی ہے اس لیے میں آپ کی شکرگزار ہوں گی کہ آپ مجھے دو ہفتوں کی چھٹی عنایت فرمائیں تاکہ میں اپنے شوہر سے کیے گئے وعدے کی پاسداری کر سکوں اور اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنا سکوں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی جانب سے مثبت جواب آ ئے گا ۔

Saturday, August 3, 2024

وفادار بیویاں

بیویاں اپنا فرض آخری سانس تک پورا کرتی ہیں

سلمان آج پھر عائشہ کو اس کی اوقات دکھا کر دفتر کے لئے نکل گیا ۔ اور دکھائے بھی کیوں نہ وہ کوئی زیادہ پڑھی لکھی عورت نہیں تھی وہ عام گھر میں رہنے والی عورت تھی اس کا کام صرف کپڑے دھونا ،کھانا بنانا، بستر لگانا ،صفائی کرنا، بچوں کو اچھی تعلیم دینا ، گھر کے بوڑھے بزرگوں کا دھیان رکھنا اور گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا ہی اس کا کام تھا ۔

ان سب کاموں کی کیا اہمیت یہ سب تو کوئی نوکرانی بھی کر سکتی ہے یہ سب سوچ کر عائشہ نے اپنے گالوں سے آنسووں کی بوندوں کو صاف کیا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

اس دوران سلمان کا فون آیا کہ وہ گھر دیر سے آئے گا اور کھانا بھی باہر ہی کھائے گا ۔

عائشہ سمجھ گئی کہ اب وہ باہر سے نشہ بھی کرکے آئے گا۔۔

پہلے تو روز عائشہ سلمان سے اس بات پر جھگڑا کرتی تھی کہ وہ نشہ کرکے گھر نہ آیا کرے وہ یہ کہہ کر اسے چپ کروا دیا کرتا تھا کہ وہ کماتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے ۔

اب تو جیسے وہ تھک چکی تھی وہ سلمان کے منہ ہی نہیں لگنا چاہتی تھی کیونکہ سلمان اسے کافی بار یہ کہہ چکا تھا کہ اس کے گھر کو اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عائشہ کو اس گھر کی ضرورت ہے

وہ جب چاہے اس گھر کو چھوڑ کر جا سکتی ہے۔ عائشہ یہ سوچ کر چپ ہو جاتی تھی کہ شاید سلمان صحیح کہہ رہا ہے اور وہ جائے گی بھی کہاں ۔

مائیکا تو بچپن سے ہی پرایا ہوتا ہے ۔اگر گھر کی بیٹی چار دن بھی زیادہ رک لے تو آس پاس کے لوگوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اور بات ماں باپ کی عزت پر بن آتی ہے یہ سب سوچ کر عائشہ بےعزتی کا گھونٹ پی جاتی ہے ۔

اگلے دن عائشہ کی طبیعت کچھ ٹھیک سی نہیں لگ رہی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ اسے بخار تھا اس نے گھر پر ہی دوا لے لی۔ جیسے تیسے ناشتہ اور بچوں کا ٹیفن بنا لیا اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی ۔

سلمان یہ کہہ کر چلا گیا کہ ڈاکٹر کو دکھا لینا ۔

شام تک عائشہ کا بخار بڑھ گیا ۔اس کی طبیعت میں ذرا بھی سدھار نہیں تھا ۔

اس نے سلمان کو فون کیا تو اس نے کہا کہ وہ آتے وقت دوا لیتا آئے گا ۔ سلمان نے عائشہ کے پاس دوا رکھ دی اور کہا کہ اسے کھالو۔ کیونکہ اس نے دوا لانے کا اتنا بڑا کام جو کیا تھا ۔

ادھر ساس نے رات کو کھانا بنا کر اس بات پر مہر لگا دی کہ اس گھر کو عائشہ کی ضرورت نہیں ہے۔ رات کو عائشہ نے کھانا نہیں کھایا وہ بے چین ہو کر تڑپ رہی تھی اور ادھر سلمان چین کی نیند سو رہا تھا اور سوئے بھی کیوں نہ اسے اگلے دن کام پر جانا تھا وہ کماتا ہے اس گھر کو اس کی بہت ضرورت ہے ۔

اگلے دن سلمان دوا کا کہہ کر اپنا عظیم فرض پورا کرکے چلا گیا ۔ادھر ساس نے بھی بیماری میں ہاتھ پیر چلانے کی نصیحت کی ۔

شام میں عائشہ کی طبیعت اور بگڑ گئی ۔ ساس نے سلمان کو فون کیا اور اسے بتایا ۔ سلمان نے کہا کہ وہ ابھی آتا ہے مگر اس کو آنے میں ایک گھنٹہ اور ہوگیا ۔

پھر سلمان کو دوبارہ فون کیا تب تک عائشہ موت کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ سلمان گھر آکر اسے ہسپتال لے گیا تب تک عائشہ مر چکی تھی۔

اب عائشہ کو کسی کی ضرورت نہیں تھی ۔ پر اب عائشہ کی سب کو ضرورت تھی۔ آج عائشہ کا دسواں ہوچکا تھا۔ اور سلمان کو دفتر جلدی نہیں جانا تھا، جاتا بھی کیسے اسے گھر کے کام جو کرنے تھے ۔ وہ کام جو عائشہ کے ہوتے ہوئے اسے پتا بھی نہیں چلتا تھا ۔

آج اسے پتا چلا کہ اس گھر کو عائشہ کی کتنی ضرورت ہے ۔
آج سلمان کو اپنے تو لیے،۔ رومال، اپنی دفتر کی فائلیں یہاں تک کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جن کا اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ کہاں ہیں اسے نہیں مل رہی تھیں ۔

اسے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اسے عائشہ کی کتنی ضرورت ہے ۔

آج عائشہ کے جانے کے بعد گھر گھر نہیں چڑیا گھر نظر آتا تھا۔ ساس کی دوائیاں اور بچوں کو کھانا وقت پر نہیں ملتا تھا ۔
سلمان کو رات کو بستر لگا ہوا نہیں ملتا تھا اور نہ ہی کوئی اس کا گھر پہ انتظار کرنے والا تھا ۔

اب اسے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں تھی وہ کہاں ہے اور کب تک آئے گا کیونکہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا ۔
اور آج سلمان کو عائشہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔اور عائشہ کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میری بھی ضرورت ہے ان سب کو ،موت کو گلے لگانا پڑا تھا ۔

اس کو اپنی اہمیت بتانے کے لئے اس دنیا سے جانا پڑا تھا ۔اور سب نے مان لیا کہ عائشہ کو اس گھر کی نہیں بلکہ اس گھر کو عائشہ کی ضرورت ہے ۔ سچ کہا ہے کسی نےانسان کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنی گھر کی عورتوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔

Learn Ai photography part 10

:PROMPT :  Make a real photo same as upload face A breathtaking cinematic wide shot of the man (reference face) standing on a rocky cliff ed...