Wednesday, September 3, 2025

 


ترجمہ : ابو مصعب اﻻثري

ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔
رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔
یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔
پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔
دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔
تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔
صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔
میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔
اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔
لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"
🌹
صدام حسین کی مشہور نظم
ایک بار عدالت میں جج رؤوف عبدالرحمن سے بحث کے دوران صدام نے مسکراتے ہوئے کہا:
"میرے پاس دو شعر ہیں، تمہیں تحفے میں دیتا ہوں۔"
اس پر جج نے فوراً وہ بٹن دبا دیا جس سے مائیک بند ہوگیا، اس لیے نظم عوام تک نہ پہنچ سکی۔ صرف عدالت میں موجود افراد نے یہ سنی، بعد میں وکلا نے یہ اشعار افشا کیے۔
💔
نظم:
زمانے کی غداری پر افسوس نہ کرنا،
کتنی ہی بار کتوں نے شیروں کی لاشوں پر رقص کیا۔
یہ مت سمجھنا کہ ان کا رقص انہیں سردار بنا دے گا،
شیر شیر ہی رہتا ہے اور کتے کتے۔
اے رہنماؤں کی چوٹی! میں شاعر ہوں،
اور شاعری آزاد ہے، اس پر کوئی الزام نہیں۔
میں صدام ہوں… داڑھی بڑھاتا ہوں،
چاند کے چہرے پر داڑھی کوئی عیب نہیں۔
یہ علوج کیوں میری داڑھی پکڑتے ہیں؟
کیا انہیں میرے دانت اور پنجے خوف زدہ کرتے ہیں؟
میں ہیبت ناک ہوں چاہے قید ہی کیوں نہ ہو،
شیر پنجرے کے پیچھے بھی ڈر پیدا کرتا ہے۔
کیا تم بھول گئے جب میں معزز تھا،
میرے قدموں تلے دریائیں بہتی تھیں۔
میرا جلوس بیس جہازوں کے ساتھ اڑتا تھا،
پرندے ان کے گرد جھنڈ بنا لیتے تھے۔
بڑے بڑے رہنما میرے گرد جھکتے تھے،
اور تم میں سے کچھ صرف دربان تھے۔
عمان اور رباط اس کی گواہی دیتے ہیں،
چیلنج کی وہ چوٹی جس کا کوئی جواب نہ تھا۔
میں وہی عراقی ہوں جو آج قید میں ہے،
قائد کے بعد ذلت اور عذاب سہہ رہا ہے۔
میں نے الوداعی لباس تمہارے لیے تیار کیا،
اور تمہارے لیے اپنے ہی ہاتھ سے کفن سیا۔
میں نے زہر کا پیالہ پی لیا،
تاکہ تمہارے ہونٹوں تک جام نہ پہنچے۔
تم سب بھی قیدی ہو گے، جلد یا بدیر،
میری طرح، اور اسباب بھی وہی ہوں گے۔
تمہاری فوجوں کے ساتھ آنے والے فاتحین،
تمہارے محلات میں کتے بن کر گھسیں گے۔
اللہ کی طرف رجوع کرو، توبہ کرو،
وہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا۔
معاف کرنا اگر آج عربیت ایک بکری بن گئی،
اور اس کے محافظ بھیڑیے بن گئے۔
💢
صدام حسین کے بارے میں چند حقائق
1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"
6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"
❣️
آخری لمحے
پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"
افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"
صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"
پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔
اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:
"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"
یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔
🌹
اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے۔


اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہے تو حضور ﷺ پر درود بھیجیں

سوال کہ اللہ نے"صلہ رحمی کرنا نیکی ہے اور صلہ رحمی نہ کرنا یعنی قطع رحمی کرنا کبیرہ گناہ ہے"

 یہ سوال کہ اللہ نے"صلہ رحمی کرنا نیکی ہے اور صلہ رحمی نہ کرنا یعنی قطع رحمی کرنا کبیرہ گناہ ہے"


کیا  اس کا جواب اس دردناک کہانی میں چھپا ہوا ہے


یہ ہیں میری سیریٹی امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں رہتی تھیں

عمر ساٹھ سال سے اوپر تھی

چار بچے تھے

تین بھائی بہن بھی


لیکن نو سال سے وہ اپنے گھر میں اکیلی رہ رہی تھیں

کئی ہفتے گھر سے باہر نہیں نکلتیں

پڑوسیوں نے بھی سالوں سے نہیں دیکھا تھا


پھر اچانک 2017 میں ان کا بینک اکاؤنٹ بند ہو گیا

پانی بجلی کے بل جمع ہو گئے

بینک نے گھر کو بیچنے کا فیصلہ کیا

جب نیا جوڑا گھر میں آیا اور سامان نکالنے لگا

تو اوپر والے حصے میں ایک ڈھانچہ ملا

DNA سے ثابت ہوا کہ یہ میری کی باقیات ہیں

تحقیقات میں پتا چلا کہ میری غلطی سے اوپر والے کمرے میں بند ہو گئی تھیں


دروازہ اندر سے بند ہو گیا

وہ بھوک پیاس سے مرتی رہیں

کتنے دن انہوں نے مدد کے لیے پکارا ہوگا

لیکن نہ کوئی بیٹا آیا

نہ بیٹی

نہ بھائی

نہ بہن

بس وقت گزر گیا

اور جب پولیس نے رشتے دار ڈھونڈے تو ایک دور کی کزن ملی جس نے ان کی لاش دفن کی

زندگی بھر محنت کرنے والی ماں یوں بے کسی سے دنیا سے چلی گئی

یہ ہے وجہ کہ اللہ نے رشتے جوڑنے کو اتنی اہمیت دی

تاکہ کوئی بھی اس دنیا میں اکیلا اور لاوارث نہ رہ جائے

رشتے نبھانا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے


یاد رکھیں

رشتہ صرف خون کا نہیں دل کا بھی ہوتا ہے

اور صلہ رحمی صرف سنت نہیں

 

اللہ کا حکم ہے !!!!

<amp-auto-ads type="adsense"

        data-ad-client="ca-pub-6549556051049881">

</amp-auto-ads>

Sunday, February 2, 2025

AI VS AI

DeepSeek کا پروجیکٹ خاص طور پر AI اور LLM (Large Language Models) کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، لیکن ChatGPT یا OpenAI کو اس سے کوئی براہِ راست نقصان نہیں ہوا۔

چند اہم پہلو:


1. مقابلہ بڑھ گیا – DeepSeek، خاص طور پر چینی مارکیٹ میں، ایک نیا مقابلہ لے کر آیا ہے، جو OpenAI اور دیگر مغربی کمپنیوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

2. ٹیکنالوجی میں بہتری – زیادہ مقابلہ کا مطلب ہے کہ OpenAI کو اپنی سروسز مزید بہتر کرنی ہوں گی تاکہ وہ مارکیٹ میں سب سے آگے رہے۔

3. مارکیٹ شیئر پر اثر – DeepSeek خاص طور پر چینی اور ایشیائی مارکیٹ میں مقبول ہو سکتا ہے، لیکن OpenAI اب بھی ایک بڑی عالمی موجودگی رکھتا ہے۔

لہٰذا، فی الحال ChatGPT کو DeepSeek کی وجہ سے کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، لیکن مستقبل میں اگر DeepSeek مزید مضبوط ہوا، تو AI کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

سنا ھے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی

سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی


سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی” برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا. “اللہ بخشے اسے، بہت اچھی عورت تھی” بنا ناراض ہوئے ،
بغیر غصہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا. ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا “لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی. بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے. “کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتاً میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی”. “یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ “نوجوان جوشیلے انداز میں بولا… “میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو ‘اس’ سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی” پرسکون جواب… جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو جہنم میں ہونا چاہیئے…لا حول ولا قوہ.. کہاں آپ جیسا شریف النفس آدمی کہاں وہ عورت؟اچھا کیا چھوڑ دیا” نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا. بوڑھے کی متجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا. تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا،کہانی خود بنانی تھی, جو رہ گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے- “میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی” بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں ایک روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی, سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی. مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکررہتی ہے، تربیت کی نہیں، تربیت بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے. وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا “میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں،اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا،یوں ہے بڑے دل والی،اپنے سائیں کو خوش رکھے گی”, وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا. سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار.” “باہر دوستوں کے ساتھ میری صحبت کوئی اچھی نہیں تھی، ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا ،رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی کیا پیتی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی. ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی “آپ تو کھانا باہر کھالیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے،
ہوسکے توایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سےخریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی”- کیا؟ اس پھونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے- مجھے طیش آیا. “ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے, اپنی اوقات دیکھی ہے؟ “غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے. میں یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی! وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی, پشیمانی تھی یا کیا وہ دودن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی. پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا، یوں اسکی روٹی کا انتظام ہوگیا اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی بےپرواہ ہوگیا.
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا “دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں”, میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے مار دوں، لیکن میں بس ایک موقع کی طاق میں تھا. ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا.اب آواز زیادہ واضح تھی.وہ کہ رہی تھی: “سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی, میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، جب تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بےعزتی اور اذیت بھی ملنے لگی،
مجھے اب روٹی تو ہی دے…تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا” وہ میری شکایت کررہی تھی؟ لیکن کس سے؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟؟؟ میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر بیٹھی خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا. میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی, وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی, وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی. وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی, آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی. کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی خدا شناس تھی,
میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا. دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اسکے گھر چھوڑ آیا، سسر نے طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا. ” یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے.مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاو آگیا تو میرا حشر نہ کردے” – حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا. اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا “میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس ‘سائیں’ کو خوش رکھنا جانتی ہے” ,
اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا. جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا.” تو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا”, اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا. میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں کا رب تھا. وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا. میں واقعی ڈر گیا تھا. میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو. ٹھیک کہتے ہیں لوگ!!کہاں میں کہاں وہ؟؟ “بوڑھی آنکھوں میں نمی اتری تھی. “میں کور چشم اسے پہچان نہ سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو۔

اردو کی دلچسپ کہانیاں : وفادار بیویاں

اردو کی دلچسپ کہانیاں : وفادار بیویاں: بیویاں اپنا فرض آخری سانس تک پورا کرتی ہیں سلمان آج پھر عائشہ کو اس کی اوقات دکھا کر دفتر کے لئے نکل گیا ۔ اور دکھائے بھی کیوں نہ وہ کوئی زی...

why crypto market crashed Alts coin hit All time 🔅 lower

Date: February 2, 2025 | 04:22 AM GMT

The cryptocurrency market has seen a sharp downturn in the last 24 hours, with Bitcoin (BTC) dropping below the $100K mark and Ethereum (ETH) losing 5% of its value. This sudden sell-off has resulted in $532 million in liquidations, according to data from Coinglass.

As a result, major altcoins have also suffered, with XRP (XRP), Stellar (XLM), and Hedera (HBAR) all declining by over 6%.

 Source: Coinmarketcap

What’s Behind the Downturn?

A key reason behind this decline can be seen in Bitcoin dominance, which is showing a crucial technical pattern. The BTC dominance 4-hour chart has formed a classic rising wedge pattern since January 13. This pattern has played out with higher highs and lower lows, and on January 30, BTC dominance finally broke below the wedge at 59.40%.

 BTC Dominance 4H Chart/Coinsprobe (Source: Tradingview)

After the breakout, BTC dominance initially fell to 58.62% but then rebounded for a retest, which took it back to 59.71% today before settling at 59.64%. This retest of the previous support now acting as resistance seems to have triggered the altcoin correction.

Can Altcoins Recover?

If BTC dominance confirms this rejection and resumes its downtrend, it could signal a quick recovery for altcoins. A confirmed pullback from here would validate the breakdown of the rising wedge, potentially leading to a strong bounceback for XRP, XLM, HBAR, and other altcoins in the coming days.

However, traders should closely monitor BTC dominance. A further decline would signal a shift back towards altcoin strength, but if BTC dominance fails to pull back and instead breaks above this resistance, it could invalidate the bearish wedge pattern. This might indicate market manipulation, leading to continued pressure on altcoins.

Disclaimer: This article is for informational purposes only and does not constitute financial advice. Always conduct your own research before making investment decisions.

Saturday, February 1, 2025

top 20 earnings apps

 

As of early 2025, several apps have gained prominence for enabling users to earn extra income through various activities. Here are 20 notable earning apps:

  1. Uber: Drive passengers or deliver food and groceries with Uber Eats, offering flexible earning opportunities.

  2. DoorDash: Deliver restaurant takeout or groceries, with weekly payments deposited directly into your bank account.

  3. Fiverr: Offer freelance services such as graphic design, writing, or video editing to a global client base.

  4. Rover: Provide pet-sitting or dog-walking services, setting your own schedule and rates.

  5. Turo: Rent out your vehicle to others when it's not in use, earning additional income.

  6. Survey Junkie: Participate in surveys to share your opinions and earn money, with a low $5 cash-out minimum.

  7. Swagbucks: Earn money by taking surveys, watching videos, playing games, and shopping online.

  8. Mistplay: Play featured games and complete goals to earn points redeemable for gift cards.

  9. Fetch Rewards: Upload your receipts to earn points that can be redeemed for gift cards.

  10. Rakuten: Get cash back on online purchases from participating retailers.

  11. Ibotta: Earn cash back on in-store and online purchases by uploading receipts or linking loyalty accounts.

  12. Upwork: A freelance marketplace covering a wide variety of industries and specialisms.

  13. Etsy: Sell handmade or vintage items, as well as craft supplies, to a global audience.

  14. Cash’Em All: Play games and complete surveys to earn coins, which can be cashed out via PayPal or gift cards.

  15. Cash Giraffe: Similar to Mistplay, it offers various games to earn money.

  16. Rewarded Play: Play games and complete surveys to earn gift cards.

  17. Freecash: Earn money by completing tasks, taking surveys, and playing games, with options to cash out via PayPal or gift cards.

  18. Depop: A marketplace app that allows you to buy and sell clothing and other items.

  19. Sweatcoin: Earn digital currency by walking, which can be redeemed for goods, services, or cash.

  20. Shopkick: Earn points by walking into stores, scanning products, and making purchases, which can be redeemed for gift cards.

These apps offer various ways to supplement your income, from gig work and freelancing to cashback and rewards programs. Choose the ones that align best with your skills and lifestyle to maximize your earnings.

For a visual overview of some top earning apps in 2025, you might find this video helpful:

Learn Ai photography part 10

:PROMPT :  Make a real photo same as upload face A breathtaking cinematic wide shot of the man (reference face) standing on a rocky cliff ed...