Friday, September 26, 2025

Learn AI picture professionally


 Make your picture professionally 


Simple

Copy prompt 

Open gimni app or chat GPT

Copy prompt 

Make picture A highly realistic cinematic portrait of a young man standing in a cotton field during golden hour. He is wearing a colorful knitted sweater, looking back over his shoulder with a calm and thoughtful expression. The cotton flowers in the foreground are softly blurred, while the sky above is partly cloudy with warm sunlight casting a dreamy glow. Ultra-detailed, sharp focus on the face, soft background bokeh, natural tones, editorial style photography.Use reference face

😊  subscribe for daily new picture ideas 💡 

Thursday, September 25, 2025

how to make new photography with Ai


 download chat GPT or Google gimini app in your mobile simple 

upload your pic selfi and copy the prompt and paste under your picture like and follow for more

Prompt👇

“A highly realistic photograph of a young

South Asian man standing in a modern, well-lit hotel corridor. He is leaning casually against a light grey wall with his hands in his pockets, one hand slightly holding a smartphone. The sunlight pours in diagonally from the right, casting dramatic soft shadows on the wall and floor. The man is dressed in a black bomber jacket, white crewneck t-shirt, loose black trousers, and white sneakers.”make 100% same as upload face picture "

Monday, September 22, 2025

How to make Ai photographs


prompt: simple copy this prompt and go to gimini app from google and paste your pitcture and make beauty full pic like my pics 

" A close-up of a well-dressed man holding a single red rose. The man has a neatly trimmed beard and mustache and is wearing a dark, long-sleeved dress shirt. The background is a solid, light color, creating a stark contrast that highlights the man and the rose."




Sunday, September 7, 2025

امام ابو حنیفہ سے کسی نے کہا

امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تین دن تعزیت کے لیے بیٹھے رہے تین دن کے بعد باہر نکل کر چوک میں آگئے ۔

 ایک بندہ آپ کا حاسد تھا سخت مخالف تھا اور سارا علاقہ جانتا تھا کہ اپ کا مخالف ہے

 جب اپ باہر نکلے تو چوک میں بہت سارے لوگ تھے وہ بھی سامنے سے آیا ۔

 السلام علیکم کے بعد کہنے لگا ابو حنیفہ سنا ہے آپ کے والد انتقال کر گئے ہے

 فرمایا ہاں ۔۔

 کہنے لگا اپنی ماں کا نکاح میرے ساتھ کر دو۔

 الله أكبر ایسا سخت جملہ کہ وہ انسان کی نیند میں سوراخ کر دیتا ہے انسان سو نہیں پاتا

 آپؒ کھڑے رہے جملہ سخت تھا مگر بات تو شرعی تھی غیر شرعی تو نہیں تھی ۔

 تو امام صاحب کے ساتھ جو شاگرد تھے عقیدت مند تھے انہوں نے تلواریں نیام سے نکالی ۔

 آپؒ نے فرمایا چپ کر جاؤ ہم کوئی لاوارث تو نہیں ہیں ۔

 حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ساری ہمت سمیٹی آنکھ میں آنسو جو چمکے تو ان کو بھی دامن میں سمیٹ لیا ہمت جمع کر کے کہنے لگے ۔

 میاں تم نے کہا ہے میں اپنی ماں کا نکاح تیرے ساتھ کر لوں ۔

 تو عدت گزر لینے دے تیرا نام لے کے اماں سے بات کروں گا اگر وہ تیرے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو مجھے اعتراض کوئی نہیں ۔

 یہ کہہ کے اپنے دوستوں کے بازو تھامے اگلے چوک میں گئے۔

 

 وہ بندہ دھڑام سے زمین پہ گرا اور روح پرواز کر گئی ۔

 لوگ کہنے لگے حضور اسے کیا ہوا ۔

 آپؒ فرمانے لگے اس نے سمجھا تھا میں لاوارث ہوں

 اسے کچھ بھی نہیں ہوا ابو حنیفہ کے صبر نے اس کی جان لے لی ہے۔

 کئی دفعہ لوگ بڑے سخت جملے کہہ دیتے ہے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔

 حسد بڑی بری چیز ہے اس کے شر سے اللہ ہم سب کو محفوظ فرمائے۔آمین

* "امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیرت و تاریخ" صفحہ نمبر ۱۲۵*

Friday, September 5, 2025

پنجاب حکومت الکٹرانک بائیک ریٹ لسٹ


Jolta Electric Pvt Ltd

  • JE 100L SE – PKR 289,900
  • JE 70L SE – PKR 279,900
  • JE 70L – PKR 237,900
  • JE 100L – PKR 242,900

Zong Fa New Energy (Pvt) Ltd

  • ZF70E1500 – PKR 229,000
  • ZF125E3000 – PKR 510,000
  • ZF70E2000 – PKR 335,000
  • ZFY1-1500 – PKR 238,000

United Auto Industries (Pvt) Ltd

  • United EV Bullet Swap Max 2000-W – PKR 410,000
  • United EV Sharp 1500-W – PKR 249,000
  • United EV Bullet 2000-W – PKR 250,000
  • United EV Bullet Pro 2000-W – PKR 260,000
  • United EV Bullet Max 2000-W – PKR 280,000
  • United EV Bullet Ultimate 2000-W – PKR 315,000
  • United EV Bullet Swap Pro 2000-W – PKR 385,000

Vitality Electric Vehicles

  • RETRO – PKR 225,000
  • VELOCITY – PKR 249,000

EV Technologies Pvt Ltd

  • EV 500 – PKR 554,490
  • EV1 – PKR 207,050
  • EV 125 – PKR 250,000

Pakzon Electric Motors (Pvt) Ltd

  • PE 100L SE – PKR 291,900
  • PE 70L – PKR 244,900
  • PE 70L SE – PKR 282,900
  • PE 100L – PKR 244,900

Nova Mobility (Pvt) Ltd

  • ECODOST ED70 – PKR 220,000
  • ECODOST ED100 (Road Ranger) – PKR 250,000

Pak Star Automobile (Pvt) Ltd

  • Metro E-Vehicle (M6-Empower) – PKR 250,000
  • Metro E-Vehicle (Thrill) – PKR 245,000

MS Jaguar Electric Bikes

  • MS JAGUAR E-125 – PKR 349,900
  • MS JAGUAR BOLT – PKR 234,900
  • MS JAGUAR M1 – PKR 259,900
  • MS JAGUAR E-70 – PKR 239,900
  • MS JAGUAR E-70 SUPREME – PKR 246,900

Huaguan New Energy Resources (Pvt) Ltd

  • SPEEDO – PKR 235,000
  • CHEETAH – PKR 240,000
  • LIZA – PKR 215,000
  • GALAXY – PKR 220,000
  • IBEX – PKR 230,000

Eiffel Industries Limited

  • Yadea M3H – PKR 250,000
  • T5 – PKR 285,000
  • Yadea VELAX – PKR 490,000
  • Road Prince E-Go-2 – PKR 250,000

E Turbo (Pvt) Ltd

  • E-Turbo ECO – PKR 201,000
  • E-Turbo ECO PRO – PKR 216,000
  • E-Turbo Thunder Bolt – PKR 381,000
  • E-Turbo EVO – PKR 484,000
  • E-Turbo Warrior – PKR 473,000
  • E-Turbo Warrior 200KM – PKR 577,000

Crown Benling (Pvt) Ltd

  • Fairy (Scooter) – PKR 210,000
  • Knight Rider-Lite – PKR 250,000
  • Champion Lite – PKR 250,000
  • Champion – PKR 280,000
  • Champion Pro – PKR 320,000

Chang Jiang Industrial Company (SMC-Pvt)

  • N21 – PKR 245,000
  • C200 – PKR 230,000
  • N-300 – PKR 240,000
  • E90 – PKR 250,000

Wednesday, September 3, 2025

اس ہائی جیکر کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ وہ کون تھا

 اس ہائی جیکر کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ وہ کون تھا 




‏دو لاکھ ڈالر تاوان لے کر پیراشوٹ کے ذریعے فرار ہونے والا

 ہائی جیکر جس کی شناخت 52 سال بعد بھی معمہ ہے

24 نومبر 1971 کا دن تھا جب ڈین کوپر نامی شخص نے امریکی ریاست اوریگون میں پورٹ لینڈ ایئر پورٹ پر ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل جانے کا یکطرفہ ٹکٹ خریدا۔

نارتھ ویسٹ ایئر لائن کے کاوئنٹر پر کھڑے عملے کو گمان تک نہیں تھا کہ یہ شخص امریکی تاریخ کی سب سے پیچیدہ واردات کرنے والا ہے، جس کا سراغ 52 سال بعد بھی نہیں لگ سکا۔

ڈین کوپر کم گو اور 40 سال کے لگ بھگ عمر کے شخص تھے جنھوں نے سفید شرٹ اور کالی ٹائی کے ساتھ سوٹ پہن رکھا تھا۔ انھیں دیکھ کر کسی بزنس مین کا گمان ہوتا تھا۔ جہاز میں بیٹھ کر انھوں نے اپنے لیے ایک ڈرنک کا آرڈر دیا۔اس طیارے میں کوپر کے علاوہ 36 مسافر سوار تھے۔ جہاز نے اڑان بھری تو دن کے تقریبا تین بجے ڈین کوپر نے ایئر ہوسٹس کو بلایا اور ان کے ہاتھ میں ایک نوٹ تھما دیا۔

وہ نوٹ پڑھ کر ایئر ہوسٹس کا رنگ اڑ گیا۔ نوٹ میں لکھا ہوا تھا کہ ڈین کوپر کے پاس موجود بیگ میں ایک بم ہے اور ہوسٹس کو چاہیے کہ وہ چُپ چاپ ساتھ والی نشست پر بیٹھ جائیں۔

ششدر ہوسٹس نے ایسا ہی کیا تو ڈین کوپر نے ایک بریف کیس کو ہلکا سا کھول کر اندر کی ایک جھلک دکھلائی۔ ہوسٹس کو صرف یہی نظر آیا کہ اس بریف کیس میں تاریں اور لال رنگ کی سٹکس موجود تھیں۔ یہ بم تھا یا کچھ اور، کوئی نہیں جانتا۔جرم کی دنیا کا یہ پراسرار معمہ اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان کی طرح موجود ہے جسے ایف بی آئی آج تک حل نہیں کر سکی۔

اس پیچیدہ واردات کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ڈین کوپر، جو ڈی بی کوپر کے نام سے مشہور ہوا، نے اس واردات کے دوران تن تنہا ایک مسافر ہوائی جہاز ہائی جیک کیا۔

عملے کو یرغمال بنا کر وہ دو لاکھ ڈالر کی رقم ملنے کے بعد دوران پرواز جہاز سے یوں غائب ہوئے کہ آج تک پوچھا جاتا ہے کہ ڈین کوپر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟

لیکن یہ واردارت کیسے ہوئی؟

‏کوپر نے ہوسٹس کو اپنے مطالبات لکھوائے جن کے مطابق دو لاکھ ڈالر اور پیرا شوٹ فراہم کیے جانے تھے۔ کوپر کی جانب سے پیسوں سے متعلق بھی کافی مخصوص مطالبہ کیا گیا۔ اس رقم میں صرف 20 ڈالر کے نوٹوں کو ہی شامل کیا جانا تھا۔ ہائی جیکر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس کو جو نوٹ دیے جائیں، وہ ایک ہی سیریز کے نہ ہوں یعنی ان کا سراغ لگانا آسان نہ ہو۔

کوپر نے نوٹ میں لکھا کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ طیارے کو مسافروں اور عملے سمیت بم سے تباہ کر دے گا۔ ہوسٹس نے یہ پیغام پائلٹ تک پہنچایا تو تھوڑی ہی دیر بعد انٹرکام پر آواز گونجی کہ طیارہ ایک تکنیکی خرابی کے باعث لینڈ کرنے والا ہے۔ طیارے میں سوار مسافروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

طیارہ نیچے اترنے سے پہلے ہی حکام کو ہائی جیکنگ کی اطلاع مل چکی تھی۔ پولیس اور ایف بی آئی اس سوچ میں پڑ گئے کہ ہائی جیکر نے پیسوں کے ساتھ پیراشوٹ کیوں مانگے ہیں۔


ہائی جیکر نے پائلٹ کو تاکید کر رکھی تھی کہ طیارے کو ایسی جگہ روکا جائے جہاں باہر روشنی کا انتظام ہو اور اندر کی روشنیاں مدھم کر دی جائیں تاکہ باہر سے کوئی اندر نہ دیکھ سکے۔ کوپر نے دھمکی دی کہ طیارے کے قریب کوئی گاڑی یا شخص آیا تو طیارہ تباہ کر دیا جائے گا۔

حکام نے ایئر لائن کے صدر کو فون کیا جس نے کہا کہ ہائی جیکر کے مطالبات مان لیے جائیں۔ بم کے خطرے کے پیش نظر حکام نے فیصلہ کیا کہ مسافروں کی جان بچانے کو اولین ترجیح بنایا جائے۔

ایئر لائن کا ایک ملازم پیسے لے کر جہاز کے قریب پہنچا اور فلائٹ اٹینڈنٹ نے جہاز کی سیڑھی نیچے کی۔ پہلے دو پیرا شوٹ پکڑائے گئے اور پھر ایک ہی بڑے بیگ میں پیسے۔ اپنے مطالبات پورے ہو جانے کے بعد کوپر نے 36 مسافروں اور ایک فلائٹ اٹینڈینٹ کو رہا کر دیا جو طیارے سے اتر گئے۔

کوپر نے جہاز میں موجود دو پائلٹ، ایک فلائٹ اٹینڈینٹ اور ایک فلائٹ انجینیئر کو رہا نہیں کیا اور حکم دیا کہ طیارے کو نیو میکسیکو سٹی کی جانب اڑا کر لے جایا جائے۔ جہاز کا سارا عملہ کاک پٹ میں ہی موجود تھا اور کوپر کاک پٹ کے باہر۔ کوپر نے پائلٹ کو ہدایت دی کہ وہ طیارے کو 150 ناٹ کی رفتار پر دس ہزار فٹ کی بلندی تک لے جائے۔

ابھی پرواز کو دوبارہ اڑے 20 ہی منٹ ہوئے تھے کہ کاک پٹ میں لال رنگ کی بتی روشن ہوئی۔ اس کا مطلب تھا کہ کسی نے طیارے کا دروازہ کھول دیا ہے۔ پائلٹ نے انٹرکام پر کوپر سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ کیا اسے کسی چیز کی ضرورت ہے تو کوپر نے غصے سے جواب دیا ’نہیں۔‘

یہ وہ آخری الفاظ تھے جو اس پراسرار ہائی جیکر نے ادا کیے۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کوپر پیراشوٹ کی مدد سے پیسوں سمیت جہاز سے چھلانگ لگا چکا تھا

اب یہ واضح ہوا کہ اس نے 20 ڈالر کے نوٹ ہی کیوں مانگے تھے کیوں کہ اس طرح رقم کا مجموعی وزن 21 پاونڈ بنتا۔ اگر اس سے کم ڈالر کے بل ہوتے تو وزن زیادہ ہوتا اور چھلانگ لگانا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ اگر زیادہ بڑے بل ہوتے تو وزن تو کم ہوتا لیکن ان کا استعمال کرنا خطرے سے خالی نہ ہوتا۔ تاہم ایف بی آئی نے ہوشیاری کی تھی اور ان تمام نوٹوں پر کوڈ لیٹر ’ایل‘ موجود تھا۔

لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکام کو کوپر کی جانب سے پیراشوٹ طلب کیے جانے پر شک گزرا تھا تو انھوں نے کوئی قدم کیوں نہ اٹھایا؟

حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے طیارے کا پیچھا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پہلے ایف 106 طیارے استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا لیکن یہ تیز رفتار لڑاکا طیارے اتنی کم رفتار پر نہیں اڑ سکتے تھے جس کی تاکید کوپر نے پائلٹ کو کی تھی۔

اس لیے ایئر نیشنل گارڈ سے ٹی 33 طیاروں کی درخواست کی گئی۔ تاہم جب تک یہ طیارے ہائی جیک ہونے والے مسافر طیارے تک پہنچے، کوپر چھلانگ لگا چکا تھا۔

مسافر طیارہ تو بحفاظت نیچے اتر گیا لیکن کاک پٹ سے باہر نکلنے کے بعد عملے نے دیکھا کہ کوپر کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ بس اس کی ٹائی اور ایک پیرا شوٹ ہی جہاز میں موجود تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جس مقام پر طیارے سے باہر نکلا، اس حساب سے وہ لیک مرون نامی مقام کے آس پاس زمین پر اترا ہو گا۔

ایف بی آئی نے فوری طور پر اس علاقے میں تلاش کا آغاز کر دیا اور سینکڑوں افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ آہستہ آہستہ تلاش کا دائرہ پھیلایا جاتا رہا لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوپر ہوا میں ہی کہیں غائب ہو گیا۔

پانچ ماہ بعد اسی طرز کی ایک واردات ہوئی جس میں طیارے کو ہائی جیک کرنے اور رقم ملنے کے بعد ملزم نے طیارے سے پیرا شوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا دی۔ لیکن اس بار رچرڈ فلوئڈ نامی ملزم گرفتار کر لیا گیا۔

ایف بی آئی کا پہلا خیال یہ تھا کہ یہی وہ ملزم ہے جس کی ان کو تلاش تھی۔ لیکن جب فلائٹ اٹینڈینٹ کو اس کا چہرہ دکھایا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ وہ شخص نہیں۔ گمان کیا جاتا ہے کہ رچرڈ نے ڈین کوپر کی کامیاب ہائی جیکنگ سے متاثر ہو کر یہ واردات کی تھی۔

کئی سال تک ایف بی آئی ہاتھ ہی ملتی رہی اور پھر یہ کہا جانے لگا کہ شاید کوپر چھلانگ لگانے کے بعد زندہ ہی نہیں بچا۔

پھر 1980 میں ایک بچے کو ایک دریا کے پاس سے 20 ڈالر کے پھٹے پرانے نوٹ ملے جو مجموعی طور پر تقریبا 5800 ڈالر بنتے تھے۔ ایف بی آئی کو اطلاع ملی تو انھوں نے سیریئل نمبر دیکھا۔ یہ وہی نوٹ تھے جو تاوان کی مد میں کوپر کو ادا کیے گئے تھے۔

یوں اس نظریے کو مذید تقویت ملی کہ شاید کوپر چھلانگ لگانے کے بعد زندہ نہیں بچا کیوں کہ وہ رات کے وقت ایک جنگلی علاقے کے بیچ گرا تھا۔

تاہم سب کو اس نظریے سے اتفاق نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں کا ماننا تھا کہ جو نوٹ ملے، وہ چھلانگ کے دوران کوپر سے گر گئے ہوں گے اور باقی رقم سمیت وہ بحفاظت نیچے اترا بھی اور حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب بھی ہوا۔

یوں اس پہیلی کے اسرار گہرے ہوتے چلے گئے اور ڈین کوپر امریکہ میں ایک مشہور شخصیت بن گیا۔ یہ الگ معاملہ تھا کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اصل ڈین کوپر کون ہے اور زندہ بھی ہے یا نہیں۔

کئی سال بعد اگست 2011 میں ایک خاتون، مارلا کوپر نے دعوی کیا کہ ڈین کوپر دراصل اس کے انکل تھے۔ ماریا کا دعوی تھا کہ اس نے ایک گفتگو سنی تھی جس کے مطابق ایک طیارہ ہائی جیک کیا گیا۔ تاہم ماریا نے یہ بھی کہا کہ اس کے انکل جہاز سے چھلانگ لگانے کے بعد وہ رقم ہوا میں ہی کھو بیٹھے۔اس وقت تک ایسے بہت سے دعوے ہو چکے تھے۔ لیکن اس دعوے کی دلچسپ بات یہ تھی کہ ہائی جیک ہونے والے مسافر طیارے کے ایک فلائٹ اٹینڈینٹ نے ماریا کے انکل کی تصویر دیکھ کر کہا کہ یہ شکل ہائی جیکر سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم حکام اس دعوے پر یقین نہ لائے اور ڈین کوپر کی فائل بند نہ ہو سکی۔

2016 میں تھک ہار کر ایف بی آئی نے اس تفتیش کے لیے مختص وسائل کو دیگر مقدمات میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 45 سال کی تفتیش کے باوجود ایف بی آئی اس جرم کو حل نہ کر سکی۔ایف بی آئی نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس کیس کو اب اتنی زیادہ توجہ نہیں دے رہے تاہم اگر کسی کے پاس کسی قسم کی معلومات ہوں تو وہ ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔

ڈین کوپر امریکہ کی تاریخ کے واحد ہائی جیکر ہیں جو کبھی نہیں پکڑے جا سکے۔ اور ان کی یاد میں ہر سال 24 نومبر کو اس مقام پر ایک جشن منایا جاتا ہے جہاں ایف بی آئی نے ان کی تلاش میں پہلا ہیڈ کوارٹر قائم کیا تھا۔

اریئل ٹیورن میں بزنس سوٹ پہنے، چشمہ لگائے، پیرا شوٹ تھامے لوگ آج بھی اکھٹے ہوتے ہیں اور رات گئے تک محفل جمی رہتی ہے۔

HEALTH AWARENESS

 خارش (Scabies) کیا ہے؟



خارش یا Scabies ایک عام مگر تکلیف دہ جلدی بیماری ہے جو ایک خوردبینی جاندار Sarcoptes scabiei نامی پیراسائٹ (جلدی جوؤں) سے پھیلتی ہے۔ یہ پیراسائٹ انسانی جلد کے اندر گھس کر سرنگیں بناتا ہے اور انہی سرنگوں میں فضلات خارج کرتا ہے۔ مادہ پیراسائٹ ان سرنگوں میں انڈے دیتی ہے، جن سے جلد پر چھوٹے دانے، چھالے اور شدید خارش پیدا ہوتی ہے۔ انڈوں اور فضلات سے الرجی ہونے کے باعث خارش بہت زیادہ اور ناقابل برداشت ہو سکتی ہے۔ اگر گھر میں کسی ایک فرد کو خارش ہو جائے تو یہ آسانی سے پورے گھر میں پھیل سکتی ہے۔


علامات


Scabies کی سب سے پہلی علامت شدید خارش ہوتی ہے، جو اکثر رات کے وقت اور گرم ماحول میں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بعد جلد پر سرخ دانے، چھوٹے چھالے (bumps or blisters) اور خارش سے متاثرہ جگہوں پر کھردرا پن، خراشیں اور چھلکے جیسی جلد پیدا ہو جاتی ہے۔


چھوٹے بچوں میں خارش کی علامات تھوڑی مختلف ہو سکتی ہیں جیسے چڑچڑاپن، رونا، اور دودھ پینے سے انکار۔

خارش جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ تر یہ درج ذیل جگہوں پر ظاہر ہوتی ہے:


ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان


کلائی کے اندرونی حصے


بازوؤں کے اندرونی طرف


کمر کے نچلے حصے


عام طور پر انفیکشن کے 2 سے 3 ہفتے بعد مکمل علامات ظاہر ہوتی ہیں۔


سکیبیز کیسے پھیلتا ہے؟


یہ پیراسائٹ کپڑوں، چادروں اور تولیوں میں 2 سے 3 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس لیے متاثرہ شخص کے زیر استعمال بستر، کپڑے، اور دیگر ذاتی اشیاء سے یہ دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قریبی جسمانی رابطے جیسے گلے ملنا، ہاتھ ملانا یا ساتھ بیٹھنا بھی اس بیماری کو پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔


:تشخیص


ڈاکٹر مریض کی علامات اور جلد پر موجود دانوں کی نوعیت سے مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔ بعض اوقات جلد کے متاثرہ حصے کا نمونہ لے کر مائیکروسکوپ کے ذریعے پیراسائٹ یا اس کے انڈوں کی شناخت کی جاتی ہے۔


:علاج


تشخیص کے بعد ڈاکٹر مخصوص کریم یا لوشن تجویز کرتے ہیں، جو پورے جسم پر (گردن سے نیچے) لگا کر کم از کم 8 سے 12 گھنٹے تک رکھا جاتا ہے تاکہ پیراسائٹ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد مریض کو گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح نہانا چاہیے۔ ساتھ ہی چادریں، بستر، کپڑے، اور تولیے بھی گرم پانی سے دھوئے جائیں۔


چونکہ یہ بیماری آسانی سے پھیلتی ہے، اس لیے گھر کے تمام افراد کا بیک وقت علاج کرنا ض

روری ہوتا ہے، چاہے کسی میں علامات ظاہر ہوئی ہوں یا نہیں، کیونکہ علامات ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ #foryoupage #viral #foryou #healthcare #scabies

Learn Ai photography part 10

:PROMPT :  Make a real photo same as upload face A breathtaking cinematic wide shot of the man (reference face) standing on a rocky cliff ed...