Sunday, August 18, 2024

نوجوان خاتون ٹیچر

نوجوان خاتون ٹیچر نے اپنی شادی کے بعد ہنی مون پر جانے کیلئے چھٹیوں کیلئے ایسی درخواست لکھ دی کہ افسر مسترد ہی نہ کر پائے ، پڑھ کر آپ بھی ہنس پڑیں گے،


    دلچسپ و عجیب

لاہور (نیوز ڈیسک ) شادی کے بعد دلہا اور دولہن اکثر اوقات سیر سپاٹے کیلئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے وقت گزارتے ہیں جسے ہم ’ہنی مون ‘ کا نام دیتے ہیں تاہم ایسی ہی صورتحال سے دوچار ایک نوجوان خاتون نے بھی اپنے محکمے میں چھٹیوں کیلئے درخواست دی جو کہ سوشل میڈیا پرآگئی اور ہر طرف دھوم مچ گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق

امینہ سواب گل نامی خاتون ٹیچر جو کہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں پڑھاتی ہیں ، کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور اس حوالے سے انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہنی مون پر جانے کیلئے چھٹیاں حاصل کرنے کیلئے درخواست لکھی جو کہ قبول کر لی گئی ہے لیکن اس کے متن نے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے ۔ خاتون ٹیچرنے اپنی درخواست میں لکھا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں میری حال ہی میں شادی ہوئی ہے ، شادہ شدہ ہونے کے ناطے آپ اس کو سمجھتی ہیں کہ نئے نویلے جوڑے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہنی مون کو یاد گار بنائیں جس کی حسین یادیں زندگی کا حصہ بن جائیں اور ایسی ہی کچھ ہماری بھی خواہش ہے ۔میں نے اپنے شوہر سے وعدہ کر لیا ہے کہ ہم دو ہفتوں کیلئے ہنی مون پر جائیں گے جو کہ 14 فروری سے شروع ہو کر28 فروری 2019 تک جاری رہے گا جس دوران ہم اپنا زیادہ وقت نتھیا گلی ،مری ،سوات ویلی اور مالم جبہ میں گزاریں گے ۔ خاتون ٹیچر کا کہناتھا کہ ہم نے اس حوالے سے منصوبہ بندی بھی کر لی ہے اس لیے میں آپ کی شکرگزار ہوں گی کہ آپ مجھے دو ہفتوں کی چھٹی عنایت فرمائیں تاکہ میں اپنے شوہر سے کیے گئے وعدے کی پاسداری کر سکوں اور اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنا سکوں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی جانب سے مثبت جواب آ ئے گا ۔

Saturday, August 3, 2024

وفادار بیویاں

بیویاں اپنا فرض آخری سانس تک پورا کرتی ہیں

سلمان آج پھر عائشہ کو اس کی اوقات دکھا کر دفتر کے لئے نکل گیا ۔ اور دکھائے بھی کیوں نہ وہ کوئی زیادہ پڑھی لکھی عورت نہیں تھی وہ عام گھر میں رہنے والی عورت تھی اس کا کام صرف کپڑے دھونا ،کھانا بنانا، بستر لگانا ،صفائی کرنا، بچوں کو اچھی تعلیم دینا ، گھر کے بوڑھے بزرگوں کا دھیان رکھنا اور گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا ہی اس کا کام تھا ۔

ان سب کاموں کی کیا اہمیت یہ سب تو کوئی نوکرانی بھی کر سکتی ہے یہ سب سوچ کر عائشہ نے اپنے گالوں سے آنسووں کی بوندوں کو صاف کیا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

اس دوران سلمان کا فون آیا کہ وہ گھر دیر سے آئے گا اور کھانا بھی باہر ہی کھائے گا ۔

عائشہ سمجھ گئی کہ اب وہ باہر سے نشہ بھی کرکے آئے گا۔۔

پہلے تو روز عائشہ سلمان سے اس بات پر جھگڑا کرتی تھی کہ وہ نشہ کرکے گھر نہ آیا کرے وہ یہ کہہ کر اسے چپ کروا دیا کرتا تھا کہ وہ کماتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے ۔

اب تو جیسے وہ تھک چکی تھی وہ سلمان کے منہ ہی نہیں لگنا چاہتی تھی کیونکہ سلمان اسے کافی بار یہ کہہ چکا تھا کہ اس کے گھر کو اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عائشہ کو اس گھر کی ضرورت ہے

وہ جب چاہے اس گھر کو چھوڑ کر جا سکتی ہے۔ عائشہ یہ سوچ کر چپ ہو جاتی تھی کہ شاید سلمان صحیح کہہ رہا ہے اور وہ جائے گی بھی کہاں ۔

مائیکا تو بچپن سے ہی پرایا ہوتا ہے ۔اگر گھر کی بیٹی چار دن بھی زیادہ رک لے تو آس پاس کے لوگوں کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اور بات ماں باپ کی عزت پر بن آتی ہے یہ سب سوچ کر عائشہ بےعزتی کا گھونٹ پی جاتی ہے ۔

اگلے دن عائشہ کی طبیعت کچھ ٹھیک سی نہیں لگ رہی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ اسے بخار تھا اس نے گھر پر ہی دوا لے لی۔ جیسے تیسے ناشتہ اور بچوں کا ٹیفن بنا لیا اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی ۔

سلمان یہ کہہ کر چلا گیا کہ ڈاکٹر کو دکھا لینا ۔

شام تک عائشہ کا بخار بڑھ گیا ۔اس کی طبیعت میں ذرا بھی سدھار نہیں تھا ۔

اس نے سلمان کو فون کیا تو اس نے کہا کہ وہ آتے وقت دوا لیتا آئے گا ۔ سلمان نے عائشہ کے پاس دوا رکھ دی اور کہا کہ اسے کھالو۔ کیونکہ اس نے دوا لانے کا اتنا بڑا کام جو کیا تھا ۔

ادھر ساس نے رات کو کھانا بنا کر اس بات پر مہر لگا دی کہ اس گھر کو عائشہ کی ضرورت نہیں ہے۔ رات کو عائشہ نے کھانا نہیں کھایا وہ بے چین ہو کر تڑپ رہی تھی اور ادھر سلمان چین کی نیند سو رہا تھا اور سوئے بھی کیوں نہ اسے اگلے دن کام پر جانا تھا وہ کماتا ہے اس گھر کو اس کی بہت ضرورت ہے ۔

اگلے دن سلمان دوا کا کہہ کر اپنا عظیم فرض پورا کرکے چلا گیا ۔ادھر ساس نے بھی بیماری میں ہاتھ پیر چلانے کی نصیحت کی ۔

شام میں عائشہ کی طبیعت اور بگڑ گئی ۔ ساس نے سلمان کو فون کیا اور اسے بتایا ۔ سلمان نے کہا کہ وہ ابھی آتا ہے مگر اس کو آنے میں ایک گھنٹہ اور ہوگیا ۔

پھر سلمان کو دوبارہ فون کیا تب تک عائشہ موت کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ سلمان گھر آکر اسے ہسپتال لے گیا تب تک عائشہ مر چکی تھی۔

اب عائشہ کو کسی کی ضرورت نہیں تھی ۔ پر اب عائشہ کی سب کو ضرورت تھی۔ آج عائشہ کا دسواں ہوچکا تھا۔ اور سلمان کو دفتر جلدی نہیں جانا تھا، جاتا بھی کیسے اسے گھر کے کام جو کرنے تھے ۔ وہ کام جو عائشہ کے ہوتے ہوئے اسے پتا بھی نہیں چلتا تھا ۔

آج اسے پتا چلا کہ اس گھر کو عائشہ کی کتنی ضرورت ہے ۔
آج سلمان کو اپنے تو لیے،۔ رومال، اپنی دفتر کی فائلیں یہاں تک کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جن کا اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ کہاں ہیں اسے نہیں مل رہی تھیں ۔

اسے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اسے عائشہ کی کتنی ضرورت ہے ۔

آج عائشہ کے جانے کے بعد گھر گھر نہیں چڑیا گھر نظر آتا تھا۔ ساس کی دوائیاں اور بچوں کو کھانا وقت پر نہیں ملتا تھا ۔
سلمان کو رات کو بستر لگا ہوا نہیں ملتا تھا اور نہ ہی کوئی اس کا گھر پہ انتظار کرنے والا تھا ۔

اب اسے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں تھی وہ کہاں ہے اور کب تک آئے گا کیونکہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا ۔
اور آج سلمان کو عائشہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔اور عائشہ کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میری بھی ضرورت ہے ان سب کو ،موت کو گلے لگانا پڑا تھا ۔

اس کو اپنی اہمیت بتانے کے لئے اس دنیا سے جانا پڑا تھا ۔اور سب نے مان لیا کہ عائشہ کو اس گھر کی نہیں بلکہ اس گھر کو عائشہ کی ضرورت ہے ۔ سچ کہا ہے کسی نےانسان کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔ ہمیں اپنی گھر کی عورتوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔

UNLOCK POWER OF TELEGRAM MINI APPS


Like and follow please 
🔧 Imbalance is Key to Success
Building your products is a very complex and risky endeavor. You can try for years and fail for various reasons each time. However, the same efforts applied at the right time and place can yield exponentially greater results.

💻 Finding Windows of Opportunity
One of a founder's tasks is to look for those windows of opportunity, temporary imbalances between costs, efforts, and the resulting benefits.

Today, let's talk about why Telegram Mini Apps (TMA) are such an opportunity for builders and the advantages they offer.

Simplicity of Development
As mentioned before, TMA are essentially WebViews. This means you can quickly adapt an existing web project into a TMA. There's no need for separate development for different devices, and your team of web developers can handle this task efficiently.

🎮 Increased Conversion Rates
With just one click, any Telegram user becomes your customer. They don't need to download a separate app; they simply launch the TMA and start interacting immediately.

🔔 Sending Push Notifications
When a Mini App is launched, it starts a bot in the background. This bot can send notifications, handle user events, and enhance interactivity. This bot-app synergy opens up innovative ways to engage and retain users.

Broad Accessibility
With over 900 million active users per month on Telegram, TMA have a massive audience.

🎣 Minimal Rivals
While countless studios generate significant revenue from mobile app development, the TMA market remains largely untapped. Since user needs remain consistent, successful mobile apps can easily be adapted into TMA.

Learn Ai photography part 10

:PROMPT :  Make a real photo same as upload face A breathtaking cinematic wide shot of the man (reference face) standing on a rocky cliff ed...