Monday, September 22, 2025

How to make Ai photographs


prompt: simple copy this prompt and go to gimini app from google and paste your pitcture and make beauty full pic like my pics 

" A close-up of a well-dressed man holding a single red rose. The man has a neatly trimmed beard and mustache and is wearing a dark, long-sleeved dress shirt. The background is a solid, light color, creating a stark contrast that highlights the man and the rose."




Sunday, September 7, 2025

امام ابو حنیفہ سے کسی نے کہا

امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تین دن تعزیت کے لیے بیٹھے رہے تین دن کے بعد باہر نکل کر چوک میں آگئے ۔

 ایک بندہ آپ کا حاسد تھا سخت مخالف تھا اور سارا علاقہ جانتا تھا کہ اپ کا مخالف ہے

 جب اپ باہر نکلے تو چوک میں بہت سارے لوگ تھے وہ بھی سامنے سے آیا ۔

 السلام علیکم کے بعد کہنے لگا ابو حنیفہ سنا ہے آپ کے والد انتقال کر گئے ہے

 فرمایا ہاں ۔۔

 کہنے لگا اپنی ماں کا نکاح میرے ساتھ کر دو۔

 الله أكبر ایسا سخت جملہ کہ وہ انسان کی نیند میں سوراخ کر دیتا ہے انسان سو نہیں پاتا

 آپؒ کھڑے رہے جملہ سخت تھا مگر بات تو شرعی تھی غیر شرعی تو نہیں تھی ۔

 تو امام صاحب کے ساتھ جو شاگرد تھے عقیدت مند تھے انہوں نے تلواریں نیام سے نکالی ۔

 آپؒ نے فرمایا چپ کر جاؤ ہم کوئی لاوارث تو نہیں ہیں ۔

 حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ساری ہمت سمیٹی آنکھ میں آنسو جو چمکے تو ان کو بھی دامن میں سمیٹ لیا ہمت جمع کر کے کہنے لگے ۔

 میاں تم نے کہا ہے میں اپنی ماں کا نکاح تیرے ساتھ کر لوں ۔

 تو عدت گزر لینے دے تیرا نام لے کے اماں سے بات کروں گا اگر وہ تیرے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو مجھے اعتراض کوئی نہیں ۔

 یہ کہہ کے اپنے دوستوں کے بازو تھامے اگلے چوک میں گئے۔

 

 وہ بندہ دھڑام سے زمین پہ گرا اور روح پرواز کر گئی ۔

 لوگ کہنے لگے حضور اسے کیا ہوا ۔

 آپؒ فرمانے لگے اس نے سمجھا تھا میں لاوارث ہوں

 اسے کچھ بھی نہیں ہوا ابو حنیفہ کے صبر نے اس کی جان لے لی ہے۔

 کئی دفعہ لوگ بڑے سخت جملے کہہ دیتے ہے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔

 حسد بڑی بری چیز ہے اس کے شر سے اللہ ہم سب کو محفوظ فرمائے۔آمین

* "امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیرت و تاریخ" صفحہ نمبر ۱۲۵*

Friday, September 5, 2025

پنجاب حکومت الکٹرانک بائیک ریٹ لسٹ


Jolta Electric Pvt Ltd

  • JE 100L SE – PKR 289,900
  • JE 70L SE – PKR 279,900
  • JE 70L – PKR 237,900
  • JE 100L – PKR 242,900

Zong Fa New Energy (Pvt) Ltd

  • ZF70E1500 – PKR 229,000
  • ZF125E3000 – PKR 510,000
  • ZF70E2000 – PKR 335,000
  • ZFY1-1500 – PKR 238,000

United Auto Industries (Pvt) Ltd

  • United EV Bullet Swap Max 2000-W – PKR 410,000
  • United EV Sharp 1500-W – PKR 249,000
  • United EV Bullet 2000-W – PKR 250,000
  • United EV Bullet Pro 2000-W – PKR 260,000
  • United EV Bullet Max 2000-W – PKR 280,000
  • United EV Bullet Ultimate 2000-W – PKR 315,000
  • United EV Bullet Swap Pro 2000-W – PKR 385,000

Vitality Electric Vehicles

  • RETRO – PKR 225,000
  • VELOCITY – PKR 249,000

EV Technologies Pvt Ltd

  • EV 500 – PKR 554,490
  • EV1 – PKR 207,050
  • EV 125 – PKR 250,000

Pakzon Electric Motors (Pvt) Ltd

  • PE 100L SE – PKR 291,900
  • PE 70L – PKR 244,900
  • PE 70L SE – PKR 282,900
  • PE 100L – PKR 244,900

Nova Mobility (Pvt) Ltd

  • ECODOST ED70 – PKR 220,000
  • ECODOST ED100 (Road Ranger) – PKR 250,000

Pak Star Automobile (Pvt) Ltd

  • Metro E-Vehicle (M6-Empower) – PKR 250,000
  • Metro E-Vehicle (Thrill) – PKR 245,000

MS Jaguar Electric Bikes

  • MS JAGUAR E-125 – PKR 349,900
  • MS JAGUAR BOLT – PKR 234,900
  • MS JAGUAR M1 – PKR 259,900
  • MS JAGUAR E-70 – PKR 239,900
  • MS JAGUAR E-70 SUPREME – PKR 246,900

Huaguan New Energy Resources (Pvt) Ltd

  • SPEEDO – PKR 235,000
  • CHEETAH – PKR 240,000
  • LIZA – PKR 215,000
  • GALAXY – PKR 220,000
  • IBEX – PKR 230,000

Eiffel Industries Limited

  • Yadea M3H – PKR 250,000
  • T5 – PKR 285,000
  • Yadea VELAX – PKR 490,000
  • Road Prince E-Go-2 – PKR 250,000

E Turbo (Pvt) Ltd

  • E-Turbo ECO – PKR 201,000
  • E-Turbo ECO PRO – PKR 216,000
  • E-Turbo Thunder Bolt – PKR 381,000
  • E-Turbo EVO – PKR 484,000
  • E-Turbo Warrior – PKR 473,000
  • E-Turbo Warrior 200KM – PKR 577,000

Crown Benling (Pvt) Ltd

  • Fairy (Scooter) – PKR 210,000
  • Knight Rider-Lite – PKR 250,000
  • Champion Lite – PKR 250,000
  • Champion – PKR 280,000
  • Champion Pro – PKR 320,000

Chang Jiang Industrial Company (SMC-Pvt)

  • N21 – PKR 245,000
  • C200 – PKR 230,000
  • N-300 – PKR 240,000
  • E90 – PKR 250,000

Wednesday, September 3, 2025

اس ہائی جیکر کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ وہ کون تھا

 اس ہائی جیکر کا آج تک پتہ نہ چل سکا کہ وہ کون تھا 




‏دو لاکھ ڈالر تاوان لے کر پیراشوٹ کے ذریعے فرار ہونے والا

 ہائی جیکر جس کی شناخت 52 سال بعد بھی معمہ ہے

24 نومبر 1971 کا دن تھا جب ڈین کوپر نامی شخص نے امریکی ریاست اوریگون میں پورٹ لینڈ ایئر پورٹ پر ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل جانے کا یکطرفہ ٹکٹ خریدا۔

نارتھ ویسٹ ایئر لائن کے کاوئنٹر پر کھڑے عملے کو گمان تک نہیں تھا کہ یہ شخص امریکی تاریخ کی سب سے پیچیدہ واردات کرنے والا ہے، جس کا سراغ 52 سال بعد بھی نہیں لگ سکا۔

ڈین کوپر کم گو اور 40 سال کے لگ بھگ عمر کے شخص تھے جنھوں نے سفید شرٹ اور کالی ٹائی کے ساتھ سوٹ پہن رکھا تھا۔ انھیں دیکھ کر کسی بزنس مین کا گمان ہوتا تھا۔ جہاز میں بیٹھ کر انھوں نے اپنے لیے ایک ڈرنک کا آرڈر دیا۔اس طیارے میں کوپر کے علاوہ 36 مسافر سوار تھے۔ جہاز نے اڑان بھری تو دن کے تقریبا تین بجے ڈین کوپر نے ایئر ہوسٹس کو بلایا اور ان کے ہاتھ میں ایک نوٹ تھما دیا۔

وہ نوٹ پڑھ کر ایئر ہوسٹس کا رنگ اڑ گیا۔ نوٹ میں لکھا ہوا تھا کہ ڈین کوپر کے پاس موجود بیگ میں ایک بم ہے اور ہوسٹس کو چاہیے کہ وہ چُپ چاپ ساتھ والی نشست پر بیٹھ جائیں۔

ششدر ہوسٹس نے ایسا ہی کیا تو ڈین کوپر نے ایک بریف کیس کو ہلکا سا کھول کر اندر کی ایک جھلک دکھلائی۔ ہوسٹس کو صرف یہی نظر آیا کہ اس بریف کیس میں تاریں اور لال رنگ کی سٹکس موجود تھیں۔ یہ بم تھا یا کچھ اور، کوئی نہیں جانتا۔جرم کی دنیا کا یہ پراسرار معمہ اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان کی طرح موجود ہے جسے ایف بی آئی آج تک حل نہیں کر سکی۔

اس پیچیدہ واردات کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ڈین کوپر، جو ڈی بی کوپر کے نام سے مشہور ہوا، نے اس واردات کے دوران تن تنہا ایک مسافر ہوائی جہاز ہائی جیک کیا۔

عملے کو یرغمال بنا کر وہ دو لاکھ ڈالر کی رقم ملنے کے بعد دوران پرواز جہاز سے یوں غائب ہوئے کہ آج تک پوچھا جاتا ہے کہ ڈین کوپر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟

لیکن یہ واردارت کیسے ہوئی؟

‏کوپر نے ہوسٹس کو اپنے مطالبات لکھوائے جن کے مطابق دو لاکھ ڈالر اور پیرا شوٹ فراہم کیے جانے تھے۔ کوپر کی جانب سے پیسوں سے متعلق بھی کافی مخصوص مطالبہ کیا گیا۔ اس رقم میں صرف 20 ڈالر کے نوٹوں کو ہی شامل کیا جانا تھا۔ ہائی جیکر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس کو جو نوٹ دیے جائیں، وہ ایک ہی سیریز کے نہ ہوں یعنی ان کا سراغ لگانا آسان نہ ہو۔

کوپر نے نوٹ میں لکھا کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ طیارے کو مسافروں اور عملے سمیت بم سے تباہ کر دے گا۔ ہوسٹس نے یہ پیغام پائلٹ تک پہنچایا تو تھوڑی ہی دیر بعد انٹرکام پر آواز گونجی کہ طیارہ ایک تکنیکی خرابی کے باعث لینڈ کرنے والا ہے۔ طیارے میں سوار مسافروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

طیارہ نیچے اترنے سے پہلے ہی حکام کو ہائی جیکنگ کی اطلاع مل چکی تھی۔ پولیس اور ایف بی آئی اس سوچ میں پڑ گئے کہ ہائی جیکر نے پیسوں کے ساتھ پیراشوٹ کیوں مانگے ہیں۔


ہائی جیکر نے پائلٹ کو تاکید کر رکھی تھی کہ طیارے کو ایسی جگہ روکا جائے جہاں باہر روشنی کا انتظام ہو اور اندر کی روشنیاں مدھم کر دی جائیں تاکہ باہر سے کوئی اندر نہ دیکھ سکے۔ کوپر نے دھمکی دی کہ طیارے کے قریب کوئی گاڑی یا شخص آیا تو طیارہ تباہ کر دیا جائے گا۔

حکام نے ایئر لائن کے صدر کو فون کیا جس نے کہا کہ ہائی جیکر کے مطالبات مان لیے جائیں۔ بم کے خطرے کے پیش نظر حکام نے فیصلہ کیا کہ مسافروں کی جان بچانے کو اولین ترجیح بنایا جائے۔

ایئر لائن کا ایک ملازم پیسے لے کر جہاز کے قریب پہنچا اور فلائٹ اٹینڈنٹ نے جہاز کی سیڑھی نیچے کی۔ پہلے دو پیرا شوٹ پکڑائے گئے اور پھر ایک ہی بڑے بیگ میں پیسے۔ اپنے مطالبات پورے ہو جانے کے بعد کوپر نے 36 مسافروں اور ایک فلائٹ اٹینڈینٹ کو رہا کر دیا جو طیارے سے اتر گئے۔

کوپر نے جہاز میں موجود دو پائلٹ، ایک فلائٹ اٹینڈینٹ اور ایک فلائٹ انجینیئر کو رہا نہیں کیا اور حکم دیا کہ طیارے کو نیو میکسیکو سٹی کی جانب اڑا کر لے جایا جائے۔ جہاز کا سارا عملہ کاک پٹ میں ہی موجود تھا اور کوپر کاک پٹ کے باہر۔ کوپر نے پائلٹ کو ہدایت دی کہ وہ طیارے کو 150 ناٹ کی رفتار پر دس ہزار فٹ کی بلندی تک لے جائے۔

ابھی پرواز کو دوبارہ اڑے 20 ہی منٹ ہوئے تھے کہ کاک پٹ میں لال رنگ کی بتی روشن ہوئی۔ اس کا مطلب تھا کہ کسی نے طیارے کا دروازہ کھول دیا ہے۔ پائلٹ نے انٹرکام پر کوپر سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ کیا اسے کسی چیز کی ضرورت ہے تو کوپر نے غصے سے جواب دیا ’نہیں۔‘

یہ وہ آخری الفاظ تھے جو اس پراسرار ہائی جیکر نے ادا کیے۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کوپر پیراشوٹ کی مدد سے پیسوں سمیت جہاز سے چھلانگ لگا چکا تھا

اب یہ واضح ہوا کہ اس نے 20 ڈالر کے نوٹ ہی کیوں مانگے تھے کیوں کہ اس طرح رقم کا مجموعی وزن 21 پاونڈ بنتا۔ اگر اس سے کم ڈالر کے بل ہوتے تو وزن زیادہ ہوتا اور چھلانگ لگانا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ اگر زیادہ بڑے بل ہوتے تو وزن تو کم ہوتا لیکن ان کا استعمال کرنا خطرے سے خالی نہ ہوتا۔ تاہم ایف بی آئی نے ہوشیاری کی تھی اور ان تمام نوٹوں پر کوڈ لیٹر ’ایل‘ موجود تھا۔

لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکام کو کوپر کی جانب سے پیراشوٹ طلب کیے جانے پر شک گزرا تھا تو انھوں نے کوئی قدم کیوں نہ اٹھایا؟

حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے طیارے کا پیچھا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پہلے ایف 106 طیارے استعمال کرنے کا ارادہ کیا گیا لیکن یہ تیز رفتار لڑاکا طیارے اتنی کم رفتار پر نہیں اڑ سکتے تھے جس کی تاکید کوپر نے پائلٹ کو کی تھی۔

اس لیے ایئر نیشنل گارڈ سے ٹی 33 طیاروں کی درخواست کی گئی۔ تاہم جب تک یہ طیارے ہائی جیک ہونے والے مسافر طیارے تک پہنچے، کوپر چھلانگ لگا چکا تھا۔

مسافر طیارہ تو بحفاظت نیچے اتر گیا لیکن کاک پٹ سے باہر نکلنے کے بعد عملے نے دیکھا کہ کوپر کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ بس اس کی ٹائی اور ایک پیرا شوٹ ہی جہاز میں موجود تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جس مقام پر طیارے سے باہر نکلا، اس حساب سے وہ لیک مرون نامی مقام کے آس پاس زمین پر اترا ہو گا۔

ایف بی آئی نے فوری طور پر اس علاقے میں تلاش کا آغاز کر دیا اور سینکڑوں افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ آہستہ آہستہ تلاش کا دائرہ پھیلایا جاتا رہا لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوپر ہوا میں ہی کہیں غائب ہو گیا۔

پانچ ماہ بعد اسی طرز کی ایک واردات ہوئی جس میں طیارے کو ہائی جیک کرنے اور رقم ملنے کے بعد ملزم نے طیارے سے پیرا شوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا دی۔ لیکن اس بار رچرڈ فلوئڈ نامی ملزم گرفتار کر لیا گیا۔

ایف بی آئی کا پہلا خیال یہ تھا کہ یہی وہ ملزم ہے جس کی ان کو تلاش تھی۔ لیکن جب فلائٹ اٹینڈینٹ کو اس کا چہرہ دکھایا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ وہ شخص نہیں۔ گمان کیا جاتا ہے کہ رچرڈ نے ڈین کوپر کی کامیاب ہائی جیکنگ سے متاثر ہو کر یہ واردات کی تھی۔

کئی سال تک ایف بی آئی ہاتھ ہی ملتی رہی اور پھر یہ کہا جانے لگا کہ شاید کوپر چھلانگ لگانے کے بعد زندہ ہی نہیں بچا۔

پھر 1980 میں ایک بچے کو ایک دریا کے پاس سے 20 ڈالر کے پھٹے پرانے نوٹ ملے جو مجموعی طور پر تقریبا 5800 ڈالر بنتے تھے۔ ایف بی آئی کو اطلاع ملی تو انھوں نے سیریئل نمبر دیکھا۔ یہ وہی نوٹ تھے جو تاوان کی مد میں کوپر کو ادا کیے گئے تھے۔

یوں اس نظریے کو مذید تقویت ملی کہ شاید کوپر چھلانگ لگانے کے بعد زندہ نہیں بچا کیوں کہ وہ رات کے وقت ایک جنگلی علاقے کے بیچ گرا تھا۔

تاہم سب کو اس نظریے سے اتفاق نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں کا ماننا تھا کہ جو نوٹ ملے، وہ چھلانگ کے دوران کوپر سے گر گئے ہوں گے اور باقی رقم سمیت وہ بحفاظت نیچے اترا بھی اور حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب بھی ہوا۔

یوں اس پہیلی کے اسرار گہرے ہوتے چلے گئے اور ڈین کوپر امریکہ میں ایک مشہور شخصیت بن گیا۔ یہ الگ معاملہ تھا کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اصل ڈین کوپر کون ہے اور زندہ بھی ہے یا نہیں۔

کئی سال بعد اگست 2011 میں ایک خاتون، مارلا کوپر نے دعوی کیا کہ ڈین کوپر دراصل اس کے انکل تھے۔ ماریا کا دعوی تھا کہ اس نے ایک گفتگو سنی تھی جس کے مطابق ایک طیارہ ہائی جیک کیا گیا۔ تاہم ماریا نے یہ بھی کہا کہ اس کے انکل جہاز سے چھلانگ لگانے کے بعد وہ رقم ہوا میں ہی کھو بیٹھے۔اس وقت تک ایسے بہت سے دعوے ہو چکے تھے۔ لیکن اس دعوے کی دلچسپ بات یہ تھی کہ ہائی جیک ہونے والے مسافر طیارے کے ایک فلائٹ اٹینڈینٹ نے ماریا کے انکل کی تصویر دیکھ کر کہا کہ یہ شکل ہائی جیکر سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم حکام اس دعوے پر یقین نہ لائے اور ڈین کوپر کی فائل بند نہ ہو سکی۔

2016 میں تھک ہار کر ایف بی آئی نے اس تفتیش کے لیے مختص وسائل کو دیگر مقدمات میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 45 سال کی تفتیش کے باوجود ایف بی آئی اس جرم کو حل نہ کر سکی۔ایف بی آئی نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس کیس کو اب اتنی زیادہ توجہ نہیں دے رہے تاہم اگر کسی کے پاس کسی قسم کی معلومات ہوں تو وہ ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔

ڈین کوپر امریکہ کی تاریخ کے واحد ہائی جیکر ہیں جو کبھی نہیں پکڑے جا سکے۔ اور ان کی یاد میں ہر سال 24 نومبر کو اس مقام پر ایک جشن منایا جاتا ہے جہاں ایف بی آئی نے ان کی تلاش میں پہلا ہیڈ کوارٹر قائم کیا تھا۔

اریئل ٹیورن میں بزنس سوٹ پہنے، چشمہ لگائے، پیرا شوٹ تھامے لوگ آج بھی اکھٹے ہوتے ہیں اور رات گئے تک محفل جمی رہتی ہے۔

HEALTH AWARENESS

 خارش (Scabies) کیا ہے؟



خارش یا Scabies ایک عام مگر تکلیف دہ جلدی بیماری ہے جو ایک خوردبینی جاندار Sarcoptes scabiei نامی پیراسائٹ (جلدی جوؤں) سے پھیلتی ہے۔ یہ پیراسائٹ انسانی جلد کے اندر گھس کر سرنگیں بناتا ہے اور انہی سرنگوں میں فضلات خارج کرتا ہے۔ مادہ پیراسائٹ ان سرنگوں میں انڈے دیتی ہے، جن سے جلد پر چھوٹے دانے، چھالے اور شدید خارش پیدا ہوتی ہے۔ انڈوں اور فضلات سے الرجی ہونے کے باعث خارش بہت زیادہ اور ناقابل برداشت ہو سکتی ہے۔ اگر گھر میں کسی ایک فرد کو خارش ہو جائے تو یہ آسانی سے پورے گھر میں پھیل سکتی ہے۔


علامات


Scabies کی سب سے پہلی علامت شدید خارش ہوتی ہے، جو اکثر رات کے وقت اور گرم ماحول میں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بعد جلد پر سرخ دانے، چھوٹے چھالے (bumps or blisters) اور خارش سے متاثرہ جگہوں پر کھردرا پن، خراشیں اور چھلکے جیسی جلد پیدا ہو جاتی ہے۔


چھوٹے بچوں میں خارش کی علامات تھوڑی مختلف ہو سکتی ہیں جیسے چڑچڑاپن، رونا، اور دودھ پینے سے انکار۔

خارش جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ تر یہ درج ذیل جگہوں پر ظاہر ہوتی ہے:


ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان


کلائی کے اندرونی حصے


بازوؤں کے اندرونی طرف


کمر کے نچلے حصے


عام طور پر انفیکشن کے 2 سے 3 ہفتے بعد مکمل علامات ظاہر ہوتی ہیں۔


سکیبیز کیسے پھیلتا ہے؟


یہ پیراسائٹ کپڑوں، چادروں اور تولیوں میں 2 سے 3 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس لیے متاثرہ شخص کے زیر استعمال بستر، کپڑے، اور دیگر ذاتی اشیاء سے یہ دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قریبی جسمانی رابطے جیسے گلے ملنا، ہاتھ ملانا یا ساتھ بیٹھنا بھی اس بیماری کو پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔


:تشخیص


ڈاکٹر مریض کی علامات اور جلد پر موجود دانوں کی نوعیت سے مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔ بعض اوقات جلد کے متاثرہ حصے کا نمونہ لے کر مائیکروسکوپ کے ذریعے پیراسائٹ یا اس کے انڈوں کی شناخت کی جاتی ہے۔


:علاج


تشخیص کے بعد ڈاکٹر مخصوص کریم یا لوشن تجویز کرتے ہیں، جو پورے جسم پر (گردن سے نیچے) لگا کر کم از کم 8 سے 12 گھنٹے تک رکھا جاتا ہے تاکہ پیراسائٹ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد مریض کو گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح نہانا چاہیے۔ ساتھ ہی چادریں، بستر، کپڑے، اور تولیے بھی گرم پانی سے دھوئے جائیں۔


چونکہ یہ بیماری آسانی سے پھیلتی ہے، اس لیے گھر کے تمام افراد کا بیک وقت علاج کرنا ض

روری ہوتا ہے، چاہے کسی میں علامات ظاہر ہوئی ہوں یا نہیں، کیونکہ علامات ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ #foryoupage #viral #foryou #healthcare #scabies

 


ترجمہ : ابو مصعب اﻻثري

ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔
رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔
یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔
پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔
دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔
تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔
صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔
میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔
اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔
لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"
🌹
صدام حسین کی مشہور نظم
ایک بار عدالت میں جج رؤوف عبدالرحمن سے بحث کے دوران صدام نے مسکراتے ہوئے کہا:
"میرے پاس دو شعر ہیں، تمہیں تحفے میں دیتا ہوں۔"
اس پر جج نے فوراً وہ بٹن دبا دیا جس سے مائیک بند ہوگیا، اس لیے نظم عوام تک نہ پہنچ سکی۔ صرف عدالت میں موجود افراد نے یہ سنی، بعد میں وکلا نے یہ اشعار افشا کیے۔
💔
نظم:
زمانے کی غداری پر افسوس نہ کرنا،
کتنی ہی بار کتوں نے شیروں کی لاشوں پر رقص کیا۔
یہ مت سمجھنا کہ ان کا رقص انہیں سردار بنا دے گا،
شیر شیر ہی رہتا ہے اور کتے کتے۔
اے رہنماؤں کی چوٹی! میں شاعر ہوں،
اور شاعری آزاد ہے، اس پر کوئی الزام نہیں۔
میں صدام ہوں… داڑھی بڑھاتا ہوں،
چاند کے چہرے پر داڑھی کوئی عیب نہیں۔
یہ علوج کیوں میری داڑھی پکڑتے ہیں؟
کیا انہیں میرے دانت اور پنجے خوف زدہ کرتے ہیں؟
میں ہیبت ناک ہوں چاہے قید ہی کیوں نہ ہو،
شیر پنجرے کے پیچھے بھی ڈر پیدا کرتا ہے۔
کیا تم بھول گئے جب میں معزز تھا،
میرے قدموں تلے دریائیں بہتی تھیں۔
میرا جلوس بیس جہازوں کے ساتھ اڑتا تھا،
پرندے ان کے گرد جھنڈ بنا لیتے تھے۔
بڑے بڑے رہنما میرے گرد جھکتے تھے،
اور تم میں سے کچھ صرف دربان تھے۔
عمان اور رباط اس کی گواہی دیتے ہیں،
چیلنج کی وہ چوٹی جس کا کوئی جواب نہ تھا۔
میں وہی عراقی ہوں جو آج قید میں ہے،
قائد کے بعد ذلت اور عذاب سہہ رہا ہے۔
میں نے الوداعی لباس تمہارے لیے تیار کیا،
اور تمہارے لیے اپنے ہی ہاتھ سے کفن سیا۔
میں نے زہر کا پیالہ پی لیا،
تاکہ تمہارے ہونٹوں تک جام نہ پہنچے۔
تم سب بھی قیدی ہو گے، جلد یا بدیر،
میری طرح، اور اسباب بھی وہی ہوں گے۔
تمہاری فوجوں کے ساتھ آنے والے فاتحین،
تمہارے محلات میں کتے بن کر گھسیں گے۔
اللہ کی طرف رجوع کرو، توبہ کرو،
وہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا۔
معاف کرنا اگر آج عربیت ایک بکری بن گئی،
اور اس کے محافظ بھیڑیے بن گئے۔
💢
صدام حسین کے بارے میں چند حقائق
1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"
6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"
❣️
آخری لمحے
پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"
افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"
صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"
پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔
اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:
"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"
یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔
🌹
اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے۔


اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہے تو حضور ﷺ پر درود بھیجیں

سوال کہ اللہ نے"صلہ رحمی کرنا نیکی ہے اور صلہ رحمی نہ کرنا یعنی قطع رحمی کرنا کبیرہ گناہ ہے"

 یہ سوال کہ اللہ نے"صلہ رحمی کرنا نیکی ہے اور صلہ رحمی نہ کرنا یعنی قطع رحمی کرنا کبیرہ گناہ ہے"


کیا  اس کا جواب اس دردناک کہانی میں چھپا ہوا ہے


یہ ہیں میری سیریٹی امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں رہتی تھیں

عمر ساٹھ سال سے اوپر تھی

چار بچے تھے

تین بھائی بہن بھی


لیکن نو سال سے وہ اپنے گھر میں اکیلی رہ رہی تھیں

کئی ہفتے گھر سے باہر نہیں نکلتیں

پڑوسیوں نے بھی سالوں سے نہیں دیکھا تھا


پھر اچانک 2017 میں ان کا بینک اکاؤنٹ بند ہو گیا

پانی بجلی کے بل جمع ہو گئے

بینک نے گھر کو بیچنے کا فیصلہ کیا

جب نیا جوڑا گھر میں آیا اور سامان نکالنے لگا

تو اوپر والے حصے میں ایک ڈھانچہ ملا

DNA سے ثابت ہوا کہ یہ میری کی باقیات ہیں

تحقیقات میں پتا چلا کہ میری غلطی سے اوپر والے کمرے میں بند ہو گئی تھیں


دروازہ اندر سے بند ہو گیا

وہ بھوک پیاس سے مرتی رہیں

کتنے دن انہوں نے مدد کے لیے پکارا ہوگا

لیکن نہ کوئی بیٹا آیا

نہ بیٹی

نہ بھائی

نہ بہن

بس وقت گزر گیا

اور جب پولیس نے رشتے دار ڈھونڈے تو ایک دور کی کزن ملی جس نے ان کی لاش دفن کی

زندگی بھر محنت کرنے والی ماں یوں بے کسی سے دنیا سے چلی گئی

یہ ہے وجہ کہ اللہ نے رشتے جوڑنے کو اتنی اہمیت دی

تاکہ کوئی بھی اس دنیا میں اکیلا اور لاوارث نہ رہ جائے

رشتے نبھانا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے


یاد رکھیں

رشتہ صرف خون کا نہیں دل کا بھی ہوتا ہے

اور صلہ رحمی صرف سنت نہیں

 

اللہ کا حکم ہے !!!!

<amp-auto-ads type="adsense"

        data-ad-client="ca-pub-6549556051049881">

</amp-auto-ads>

Learn Ai photography part 10

:PROMPT :  Make a real photo same as upload face A breathtaking cinematic wide shot of the man (reference face) standing on a rocky cliff ed...